(50)
۔🌹(فرض کی تیسری رکعت میں سورہ ملانا کیسا ہے؟ )🌹۔
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
۔🌹🌹مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ منفرد اگر فرض نماز میں تیسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ پڑھ دیا تو کیا اس کی نماز ہو جائے گی ؟ جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی ؟🌹🌹۔
۔(🎤المستفتی: محمد عباس اشرفی کچھوچھہ شریف🎤)
🔶🔷🔶🔷🔶🔷🔶🔷🔶🔷🔶🔷🔶
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملک الوہاب
صورت مسئولہ میں نماز ہو جائے گی حضور اعلی حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں فرض کی پچھلی رکعتوں میں سورت ملالے تو کچھ مضائقہ نہیں صرف خلاف اولی ہے بلکہ بعض ائمہ نے اس کے مستحب ہونے کی تصریح فرمائی ہے فقیر کے نزدیک ظاہراً یہ استحباب تنہا پڑھنے والےکے حق میں ہے امام کے لئے ضرور مگر وہ ہے ۔
منفرد کے تعلق سے تحریر فرماتے ہیں در مختار میں ہے
۔{ضم سورة في الاولين من الفرض وهل يكره في الآخرين المختار لا} "
فرض کی دو پہلی رکعتوں میں سورت کاملانااورپچھلی رکعتوں میں مکروہ ہے؟ مختار یہ کہ مکروہ نہیں ۔
رد المحتار میں ہے
{ای لا یکرہ تحریما بل تنزيها لا نه خلاف السنة}
يعنى مکروہ تحریمی نہیں بلکہ مکروہ تنزیہی ہے کیوں کہ یہ خلاف سنت ہے۔
امام کے تعلق سے اعلی حضرت علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں
۔{للامام الزيادة عليهالا طالته على مقتدين فوق السنة بل لو اطال الى حد الاستثقال كره تحريما}
امام کے لئے فاتحہ پر اضافہ کرنا مکروہ ہو گا یوں کہ یہاں مقتدیوں سے بڑھ کرسنت پر طوالت کی کہ مقتدیوں پر گراں گزری تو یہ مکر و تحریمی ہوگی ۔
۔(📗ماخوذ فتاوی رضویہ جلد 8 صفحہ 192 تا 194 مطبع رضافاؤنڈیشن لاہور )
۔(📗ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلددوم صفحہ ٣۵٣)
والله تعالى اعلم بالصواب
محمدافروز احمد مجاہدی🖋
اسی طرح اوربھی مسائل پڑھنےکےلئے اس لنک پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے