(49)
۔(مسجد میں کام چل رہا ہو تو دوسری جگہ نماز پڑھنا کیسا ہے؟)
السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ
۔مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ مسجد کی تعمیر و توسیع کی وجہ سے نماز پڑھنا مشکل ہو تو بحالت مجبوری دوسری جگہ عارضی طور پر چند ماہ کے لئے نماز پنجگانہ نماز جمعہ اور اذان کے لئے منتخب کر کے نماز پڑھنا درست ہے؟ اور اگر درست ہے تو بعد میں اس جگہ کوکسی بھی قسم کےاستعمال میں لایا جا سکتا ہے کہ نہیں؟۔
۔(🎤المستفتى : - عیاض احمد انصاری دربجنگہ بہار🎤)
🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملك الوهاب
اگر مسجد میں کام چل رہا ہے تو دوسری جگہ نماز پڑھ سکتے ہیں کسی جگہ کو نماز پڑھانے کے لئے منتخب کر لینے سے وہ مسجد نہیں بن جاتی جب تک کہ اس کا مالک زمین کو مسجد نہ بنا دے مثلاً مالک نے لوگوں سے کہا کہ اس میں ہمیشہ نماز پڑھا کرو تو مسجد ہوگئی اگر صرف نماز پڑھنے کے لئے کہا ہے تو وہ مسجد نہیں ۔
جیسا کہ صدر الشریعہ بدر طریقہ حضرت علامہ و مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریرفرماتے ہیں کہ اگر کسی نےاپنی زمین پرنماز پڑھنے کی اجازت دیدی اور نیت کچھ نہیں یا مہینہ یا سال بھر ایک دن کے لئے نماز پڑھنے کے لئے کہا تو وہ زمین مسجد نہیں بلکہ اس کی ملکیت ہے، اس کے مرنے کے بعد اس کے ورثہ کی ملک ہے ۔
۔(📗بہارشریعت ، ج ۲، ح ۱۰ ص : ٥٥٨ )
اگر زمین مالک نے مسجد میں نہیں دیا تو اس زمین کو مالک اپنے ہر کام میں لا سکتا ہے اور اگر مسجد میں دے دیا ہے تو نہیں لا سکتا
۔(📗ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلد دوم صفحہ٣٣٩)
واللہ تعالی اعلم بالصواب
۔📝 كتب محمد افروز احمد مجاہدی
اسی طرح اوربھی مسائل پڑھنےکےلئے اس لنک پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے