(22)
خودی کوکربلنداتناالخ پڑھناکیساہے
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس شعر کے بارے میں کہ اس کا پڑھنا کیسا ہے؟
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلےخدابندےسےخود پوچھےبتاتیری رضاکیاہے
(🎤المستفتی: عبد الله رضوی🎤)
🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔹
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملک الوہاب هو الهادي الى الصواب
اس شعر کو نہ پڑھا جائے کیونکہ مفہوم حدیث کے خلاف ہے جیسا کہ شعر سے واضح ہے ہر تقدیر سے پہلے جب کہ تقدیر زمین و آسمان سے پچاس ہزار قبل لکھی گئی تو خدا بندے کی تقدیر سے پہلے کیسے پوچھے گا حدیث شریف میں ہے
(عبداللہ بن عمرو رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم كتب الله مقادير الخلائق قبل ان يخلق السموت والارض بخمسين الف سنة ).
حضرت بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدائے تعالیٰ نے زمین و آسمان کی پیدائش سے پچاس ہزار سال قبل مخلوقات کی تقدیر کولکھا ( اور لوح محفوظ میں ) ثبت فرمادیا۔
۔ (📗مسلم ج ۲ ص ۳۳۵ / مشکوته ص ۱۹)
ہاں اگر یوں پڑھا جائے تو کوئی حرج نہ ہوگا۔
خودی کوکربلنداتناکہ ہرتدبیر سے پہلے
خدابندےسےخودپوچھےبتاتیری رضاکیا ہے
و الله تعالى اعلم بالصواب
۔(📗ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلداول صفحہ ٣٦٢)
۔📝 محمد افروز احمد مجاہدی
اسی طرح اور مسائل پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے