Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

دار الحرب اور دار الاسلام کسے کہتے ہیں؟

 (23)



دار الحرب اور دار الاسلام کسے کہتے ہیں؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ دار الحرب اور دارالاسلام کسے کہتے ہیں؟اور ہندوستان دارالحرب ہے یا دار الاسلام؟ اس کا جواب دے کر شکریہ کا موقع دیں


(🎤المستفتى :- محمد مختار انصاری🎤)


🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹


وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته


 بسم الله الرحمن الرحيم 

الجواب بعون الملک الوہاب

دارالحرب وہ مقام ہے جہاں احکام شرک وکفر علانیہ جاری ہوں اور احکام اسلام و شعائر مطلقاً (بالکل) جاری نہ ہو پائیں ہوں ۔ دارالحرب کو سمجھنے کے لیے حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے مدینہ منورہ ہجرت کرنے سے پہلے مکہ کی حالات کو ذہن و فکر میں لائیں کہ اس وقت مکہ مکرمہ میں کفر و شرک کے احکام علانیہ جاری تھے اور اسلامی احکام بالکل نافذ نہ تھے بلکہ حالت یہ تھی کہ اگر کسی کو احکام اسلام مثلاً اذان و نماز وغیرہ پر علانیہ عمل کرتے ہوئے دیکھ لیا جاتا تو اس کو سخت ترین سزادی جاتی تھی لیکن جب مکہ مکرمہ بحمد اللہ فتح ہوا تو اسی وقت سے دارالاسلام ہو گیا، کہ وہاں احکام اسلام پر علانیہ عمل کیے جانے لگے کوئی خوف محسوس کیے بغیر ۔ اور دارالاسلام یہ ہے کہ جہاں اسلامی احکام و شعائر جاری ہوں ، ( مثلاً نماز جمعہ و عیدین ، نماز پنجگانہ اور اذان وغیرہ دیگر احکام علانیہ طور پر ادا کیے جارہے ہوں ) تو وہ دارالاسلام ہے۔

مذکورہ بالا با توں سے یہ واضح ہو گیا کہ ہندوستان دارالاسلام ہے نہ کہ دارالحرب اس لیے کہ یہاں اللہ کے فضل سے نماز ، اذان، نکاح تعلیم و تربیت، اسلامی جلسہ جلوس اور ان کے علاوہ دیگراحکام اسلام علی الاعلان جاری ہیں اور علانیہ ادا کیے جاتے ہیں، نہ کہ چھپ چھپ کر۔ اور اسی کےاثبات میں اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے ایک رسالہ بنام (اعلام الاعلام بأن هندوستان دار الاسلام )ت

صنیف فرمائی ہے ۔ یہ رسالہ 

۔(📗فتاوی رضویہ جدید، جلد ۱۴ صفحہ ۱۰۵ )

میں موجودہے ۔ مزید معلومات کے لیے مذکورہ رسالہ کا مطالعہ کر کے دارالاسلام اور دارالحرب کے تعلق سےاپنی معلومات میں اضافہ کریں۔

تنبیہ: - ہندوستان اگر چہ دارالاسلام ہے لیکن یہاں کے کفار ذمی نہیں ہیں بلکہ حربی میں، کیوں کہ و کسی بادشاہ اسلام کے امان میں نہیں ہیں، اور ذمی کافر اس کو کہتے ہیں جو دارالاسلام میں کسی بادشاہ اسلام کے امان میں ہو ۔ 

واللہ اعلم بالصواب

۔(📗ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلداول صفحہ ٣٧١)

۔📝 كتب محمد افروز احمد مجاہدی

اسی طرح اورمسائل پڑھنےکےلیےلنک پرکلک کریں

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com




ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے