Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

جنم دن پر کیک کاٹنا کیسا ہے؟

 (24)


 جنم دن پر کیک کاٹنا کیسا ہے؟ 


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ ایک امام اپنی پیدائش کے موقع پر اپنے تمام دوستوں کے ساتھ ایک ہوٹل میں جا کر کیک کاٹتا ہے اور لوگ تالیاں بجا کر اس کے پیدائش کی مبارک باد پیش کرتے ہیں کھانے پینے کا بھی اہتمام ہوتا ہے۔ تو اب عرض یہ ہے کہ ایسا کرنے والے امام کے لیے شریعت کا کیا حکم ہے؟ اور یہ بھی بتائیں کہ امام اور عوام کے لئے شریعت کا ایک ہی حکم ہو گا یا الگ الگ؟ کیا اس امام کے پیچھے نماز ہوگی ؟ برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں 


(🎤المستفتیان :-حیدرمیاں ومعراج رضا بلگرامی🎤)

🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

بسم الله الرحمن الرحيم

الجواب بعون الملک الوہاب

جنم دن یعنی یوم ولادت منانا شرعا جائز ہے البتہ کیک کاٹنا مرد عورت کا ملاپ ہونا تالی بجانا یہ یہود و نصاری کا طریقہ ہے جو شرعاً ناجائز و حرام ہے حضور علیہ السلام نے فرمایا 

(من تشبه بقوم فهو منهم) "

جو جس قوم سے مشابہت رکھے گا وہ انہیں میں سے ہے ۔ (مشکوۃ)

عالم اورتمام مسلمانوں پرلازم ہےکہ علانیہ توبہ کریں کہ توبہ گناہ میں معاون ہیں جیسا کہ ارشادربانی ہے 

۔(إِلَّا مَنْ تَابَ وَأمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَئِكَ يُبَدلُ اللهُ سَياتِهِمْ حَسَنتٍ وَكَانَ اللهُ غَفُورًا رَّحِيمًا)

مگرجوتوبہ کرےاورایمان لائےاوراچھا کام کرےتوایسوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

۔(📗کنز الایمان سوره فرقان ۷۰ )

اور اگر توبہ نہ کریں تو سارے مسلمان بائیکاٹ کردیں جیسا کہ قرآن شریف میں ہے

۔(وامايُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطَنُ فَلَا تَقْعُدَ بَعْدَ الذِكرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّلِمِين )

اور جو کہیں تجھےشیطان بھلا دے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ ۔

۔ (📗کنز الایمان سورہ انعام ۶۸)

شریعت کا حکم امام اور عوام سب کے لئے ایک ہے لہذا ایسے شخص کی امامت جائز نہیں

ہاں اگر امام توبہ کرلے تو بعد توبہ امامت جائز ہے ۔


 واللہ اعلم بالصواب

۔(📗ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلداول صفحہ ٣٧٤/٣٧٣)


۔📝 كتب محمد افروز احمد مجاہدی


اسی طرح اور مسائل جاننےکےلیےلنک پرکلک کریں

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے