(25)



بے نمازی کا فر ہے یا مسلمان؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

۔مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ بے نمازی کا فر ہے یا مسلمان ؟ بعض لوگ کہتے ہیں جونماز نہیں پڑھتے وہ کافر ہو گئےجواب عنایت فرمائیں۔


(🎤المستفتى : شمس الہدی مہراج گنج🎤)

🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

بسم الله الرحمن الرحيم

الجواب بعون الملک الوہاب


بے نمازی کافر نہیں ہو گا بلکہ مسلمان ہی رہے گا البتہ نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے سخت گنہگارضرور ہو گا اور جولوگ کہتے ہیں کہ بے نمازی کافر ہے یہ محض جہالت ہے۔


حدیث شریف میں ہے: کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا " 

۔(خمس صلوات كتبهن الله تعالى على العباد، الى قولهﷺ من لم يأت بهن فليس له عند الله عهد ان شاء الله عذبه وان شاءيدخله الجنة " )

یعنی پانچ نمازیں خدا نے بندوں پر فرض کیں جو انہیں نہ پڑھے اس کے لئے خدا کے پاس کوئی عہد نہیں اگر چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو جنت میں داخل کرے ۔


۔ (📗فتاوی رضویہ جلد پنجم صفحه ۱۰۷ بحوالہ سنن النسائی )

اس حدیث سے واضح ہے کہ بے نمازی مسلمان ہے اگر وہ کافر ہوتا تو حضور ﷺ یہ نہ فرماتے کہ تارک نماز کو اللہ تعالیٰ چاہے تو عذاب دے اور چاہے تو جنت میں داخل کرے ۔

جمہور علمائے دین وائمہ معتمدین تارک نماز کو سخت فاجر جانتے ہیں مگر دائر اسلام سے خارج نہیں کہتے _حضرت امام اعظم ابو حنیفہ، حضرت امام شافعی ، اور حضرت امام مالک رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا بھی یہی مذہب ہے اور حضرت امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ سے بھی ایک روایت میں یہی ہے کہ بے نمازی کافر نہیں ۔


اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رضی اللہ عنہ حلیۃ المحلی کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں"

۔( ذهب الجمهور منهم اصحابنا ومالك والشافعي و احمد في رواية الى انه لا يكفر)


۔ (📗فتاوی رضویہ شریف جلد ۵ صفحه ۱۰۶) 


خلاصہ یہ ہے کہ بے نمازی مسلمان ہے مگر سخت فاسق ہے کافر نہیں ۔

۔ (📗در مختار جلد اول صفحہ ۲۵۹) میں ہے

 ( و تاركها عمدا مجانة اى تكاسلا فاسق) اهـ 

والله تعالى اعلم بالصواب


۔(📗ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلداول صفحہ ٤٤٢/٤٤١)


۔📝 محمد افروز احمد مجاہدی

اسی طرح اور مسائل پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com