Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

چشمہ لگا کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟

 (165)

چشمہ لگاکرنمازپڑھناکیساہے؟


السلام عليكم ورحمۃ اللہ وبركاتہ

مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ چشمہ لگا کر نماز پڑھنا جائز ہے کیا ؟ جواب عنایت فرمائیں

المستفتی: محمد عباس اشرفی

 وعليكم السلام ورحمۃ اللہ وبركاتہ

بسم الله الرحمن الرحيم

الجواب بعون الملک الوہاب

چشمہ لگا کر نماز پڑھنا جائز ہے بشرطیکہ اسکا حلقہ اور فریم سونے چاندی کا نہ ہو اور بوقت سجدہ -ناک ہڈی تک دبنے میں رکاوٹ کا سبب نہ بنے مگر بہتر یہ ہے کہ نماز پڑھتے وقت اتار لے جیساکہ فتاوی مرکزتربیت افتاء میں ہے کہ دھات کا چشمہ لگا کر نماز پڑھنا جائز ہے بشرطیکہ سونے چاندی کا نہ ہولیکن بہتر یہ ہے کہ نماز پڑھتے وقت اتارے جیسا کہ اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ فتاوی رضویہ جلد سوم صفحہ ۱۴۲۷/ میں تحریر فرماتے ہیں کہ اگر عینک (چشمہ ) کا حلقہ چاندی یا سونے کی ہیں تو ایسی عینک نا جائز ہے اور نماز اسکی اور مقتدیوں سب کی سخت مکروہ ہوتی ہے ورنہ تانبے یا اور دھات کی ہوں تو بہتر یہ ہے کہ نماز پڑھنے میں اتار لے ورنہ یہ خلاف اولی اور کراہت سے خالی نہیں ۔ اھ (فتاوی مرکزتر بیت افتاء ج:۱ ص: ۲۲۴ / ۲۲۵ / باب ما یکرہ فی الصلاة / فقیہ ملت اکیڈمی او جهان گنج ضلع بستی )

 والله تعالی اعلم با الصواب

كتبہ محمد افروز احمد مجاہدی

اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں 

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے