Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

قرض میں دی گئی رقم پر زکوٰة کا کیا حکم ہے ؟

 (164)


قرض میں دی گئی رقم پر زکوٰة کا کیا حکم ہے ؟


 السلام علیکم ورحمة الله و برکاتہ۔ کیا فرماتے علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ ایک صاحب نے اپنے رشتہ داروں میں تقریہ آٹھ لاکھ روپے کی خطیر رقم قرض دی ہوئی ہے اور ابھی تک واپس نہیں لیے ہیں جب ان کے حالات کچھ بہتر ہونگے تو واپس کر دینگے اس رقم کی زکوۃ کی ادائیگی کی کیا صورت بنے گی۔برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں 

سائل محد تو قیر رضا

الْجَوَابِ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ اللَّهُمَّ هِدَايَةَ الحَقِّ وَالصَّوَابِ

وعلیکم السلام ورحمة اللہ و برکاتہ 

صورت مسئولہ میں آپ پر اس قرض کی رقم کی زکو و واجب ہو گی مگر اس کی ادائیگی اس وقت واجب ہو گی جب مقدار نصاب سے کم از کم پانچواں حصہ آپ کو موصول ہو جائے، جب پانچواں حصہ وصول ہو جائے گا تو اس پانچویں حصہ کی زکوۃ واجب الادا ہو گی۔ اس طرح مزید ملنے پر ہر پانچویں حصہ پر زکوۃ ہو گی اور گزشتہ تمام سالوں کی زکوۃ ادا کرنا ہوگی اور نصاب کے پانچویں حصہ سے مراد ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کا پانچوں حصہ ہے ۔ 

شیخ الاسلام والمسلمین امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : قرض جسے عرف میں دست گرداں کہتے ہیں اس میں سال بسال زکوة واجب ہوتی رہے گی مگر اس کا ادا کرنا اسی وقت لازم ہو گا اس کے قبضے میں بقدرخمس نصاب آئے گا۔مطلقاً 

 فتاوی رضویہ، جلد ۱۰ صفحہ ۱٦٢ ، رضا فاؤنڈیشن لاہور 

واللہ ورسولہ اعلم بالصواب

كتبہ محمد افروز احمد مجاہدی

اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں 

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے