Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

کیا پہلے زمانے میں روزہ میں رات میں بھی کھانا پینا منع تھا؟

 (265)

کیا پہلے زمانے میں روزہ میں رات میں بھی کھانا پینا منع تھا؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اَلسَّلاَمْ عَلَيْــــــــــــــــــــكُمْ وَ رَحْمَةُ اللہِ وَبَرَكَاتُهُ

کیا فرماتے ہیں علماء کرام مفتی عظام اس مسئلہ کے بارے میں حضرت سوال یہ ہے کہ پہلے زمانہ میں رمضان کے روزے کتنے روزے فرض تھے اور اس زمانے میں کون سے صحابہ کرام تھے اور روزہ کا وقت کب سے کب تک تھا میں نے سنا ہے کہ مغرب میں افطار ہوتا تھا اور شام پھر سحری کا وقت ختم ہو جاتا تھا تو یہ بات صحیح ہے حضرت رہنمائی فرما دیں بہت مہربانی ہوگی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سائل محمد قمر علی انصاری بریلی شریف انڈیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نحمده ونصلي علي رسوله الكريم 

وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته 

الجواب بعونه تعالي عز وجل 

شروع اسلام میں افطار کے بعد کھانا پینا، جماع کرنا نمازِ عشاء تک حلال تھا، نمازِ عشا ء کا وقت شروع ہونے کے بعدیہ سب چیزیں بھی حرام ہوجاتی تھیں، یونہی سونے کے بعد بھی یہ چیزیں حرام ہوجاتی تھیں اگرچہ ابھی عشاء کا وقت شروع نہ ہوا ہو۔بعض صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے رمضان کی راتوں میں ہم بستری کا فعل سرزد ہوا۔ اس پروہ حضرات نادم ہوئے اور بارگاہِ رسالت  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ میں صورتِ حال عرض کی تو آیت اتری۔(جلالین وصاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۸۷،۱ / ۱۵۶،۱۵۷)

روزہ ایک ماہ کا ہی فرض تھا۔ 

اور فرمادیا گیا کہ آئندہ تمہارے لئے رمضان کی راتوں میں اپنی عورتوں کے پاس جانا حلال کردیا گیانیز اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ تم اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے رہے ہو لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہیں معاف فرمادیااور آئندہ کیلئے اجازت بھی عطا فرمادی۔ آیت میں خیانت سے وہ ہم بستری مراد ہے جو اجازت سے پہلے رمضان کی راتوں میں مسلمانوں سے سرزد ہوئی تھی۔

وَ ابْتَغُوْا: اور تلاش کرو۔

 اللہ تعالیٰ کے لکھے ہوئے کو طلب کرنے سے مراد یا تو یہ ہے کہ عورتوں سے ہم بستری اولاد حاصل کرنے کی نیت سے ہونی چاہیے جس سے مسلمانوں کی افرادی قوت میں اضافہ ہو اور دین قوی ہو۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد شرعی طریقے کے مطابق یہ فعل کرنا ہے

۔(تفسیرات احمدیہ، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۸۷، ص۶۹)

اور ایک قول یہ بھی ہے کہ جو اللہ  تعالیٰ نے لکھا اس کو طلب کرنے کے معنی ہیں رمضان کی راتوں میں کثرت سے عبادت کرنا اور بیدار رہ کر شب قدر کی جستجو کرنا۔ (تفسیر کبیر، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۸۷، ۲ / ۲۷۲)

وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا: اور کھاؤ اور پیو۔

 یہ آیت حضرت صَرمہ بن قیس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے حق میں نازل ہوئی۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ محنتی آدمی تھے، ایک دن روزے کی حالت میں دن بھر اپنی زمین میں کام کرکے شام کو گھر آئے، بیوی سے کھانا مانگا، وہ پکانے میں مصروف ہوگئیں اوریہ تھکے ہوئے تھے اس لئے ان کی آنکھ لگ گئی، جب بیوی نے کھانا تیار کرکے انہیں بیدار کیاتو انہوں نے کھانے سے انکار کردیا کیونکہ اس زمانہ میں سوجانے کے بعد روزہ دار پر کھانا پینا ممنوع ہوجاتا تھا ۔ چنانچہ اسی حالت میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دوسرا روزہ رکھ لیا جس سے کمزوری انتہا کو پہنچ گئی اوردوپہر کے وقت بیہوش ہوگئے ۔ تاجدار رسالت  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں ان کا حال بیان کیا گیا تو ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی

۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۸۷،۱ / ۱۲۶، بخاری، کتاب الصوم، باب قول اللہ جل ذکرہ: احلّ لکم۔۔۔ الخ، ۱ / ۶۳۱، الحدیث: ۱۹۱۵)

اور رمضان کی راتوں میں کھانا پینا مباح فرمادیا گیا۔آیت میں سفید اور سیاہ ڈورے کا تذکرہ ہے۔ اس سے رات کو سیاہ ڈورے سے اور صبح صادق کو سفید ڈورے سے تشبیہ دی گئی ہے اور معنی یہ ہیں کہ تمہارے لیے کھانا پینا رمضان کی راتوں میں مغرب سے صبح صادق تک جائز کردیا گیا۔

واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

كتبه/ محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے