(166)
گلےکابٹن یاآستین کابٹن بند نہ ہوتوکیانمازنہیں ہوگی ؟
السلام عليكم ورحمة اللہ وبركاتہ
مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ گلے کا بٹن یا آستین کا بٹن بند نہ ہو تو نماز نہیں ہوگی ؟ صدری کا کتنا بٹن بند رھنا چاہئے؟
المستفتی :-حافظ جعفرعلی نظامی
وعليكم السلام ورحمۃ اللہ وبركاتہ
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملک الوہاب
کرتے کا بٹن کھلا رہنے کی چند صورتیں ہیں یا تو کرتے کے اوپر یا نیچے کوئی دوسرا کپڑاملا صدری ، شیروانی یا بنیائن وغیرہ پہنے ہوئے ہو ایسی صورت میں اگر اوپر یا نیچے والے دوسرے کپڑے کی وجہ سے سینہ ڈھکا ہوا تھا تو کرتے کی بٹن کا کھلنا مکروہ تنزیہی ہے، اور اگر کرتے کے اوپر یانیچے دوسرا کپڑا نہیں ہے جس سے سینہ ڈھکا رہے اس صورت میں مکروہ تحریمی ہے۔ جیسا کہ علامہ صدرالشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ اگر کرتے کا بٹن لگا ہو سینہ ڈھکا ہواوپر سے صدری پہنا اور بٹن نہ لگایا تو مکروہ تنزیہی ہے۔
نیز فرماتے ہیں کہ انگر کھے کے بند نہ باندھنا اور اچکن وغیرہ کے بٹن نہ لگانا اگر اس کےنیچے کرتا وغیرہ نہیں اور سینہ کھلا رہا تو ظاہر کراہت تحریم ہے، اور نیچے کرتا وغیرہ ہے تو مکروہ تنزیہی بہار شریعت حصہ سوم صفحہ ۱۶۵ مطبوعہ قادری کتاب گھر بریلی شریف
فیض الرسول میں ہے کہ اگر بٹن اس طرح کھلے ہوئے تھے جس سے سینہ ظاہر ہے تو نماز قطعاً مکروہ تحریمی ہوگی ، اور اگر صرف اوپر کابٹن اس طرح کھلا ہوا ہے جس سے صرف گلے کے پاس کا خفیف حصہ نظرآرہاہےتوکوئی حرج نہیں ۔فتاوی فیض الرسول جلد اول صفحہ ۳۷۵
والله اعلم بالصواب ۔
كتبہ محمد افروز احمد مجاہدی
اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے