(21)
اٹھارہ ہزار مخلوقات ہیں یااٹھارہ ہزارعالم؟
مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ اٹھارہ ہزار مخلوقات ہیں یا اٹھارہ ہزار عالم؟ یا دونوں ایک ہیں؟ بعض کا کہنا ہے کے دونوں ایک ہیں ، بعض کا کہنا ہے الگ الگ ۔ اور بعض کا کہنا ہے اٹھارہ ہزار عالم ہیں مخلوقات نہیں مخلوقات تو بے شمار ہیں صحیح قول کیا ہے؟ جواب مدلل عنایت فرمائیں
(🎤المستفتى :محمدشمشیررضاشمسی بهار🎤)
🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملک الوہاب
نہ اٹھارہ ہزار مخلوقات ہیں نہ اٹھارہ ہزار عالم ۔ اور نہ ہی دونوں ایک ہیں بلکہ دونوں الگ الگ ہیں مخلوقات تو بے شمار ہیں یعنی اللہ خالق ہے بقیہ چیز یں مخلوق ہیں جیسے انسان جانور کیڑے پرندے کنکر پتھر پیڑ وغیرہ جس کا اندازہ کرنا ناممکن ہے اور عالم اٹھارہ ہیں لیکن کثرت مخلوقات کی وجہ سے ہزار کی طرف منسوب کر دیا گیا جیسا کہ سیدی سرکار اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیه الرحمة والرضوان فتاوی رضویہ شریف میں تحریر فرماتے ہیں عالم اٹھارہ ہیں اور ہر ایک میں کثرت مخلوقات کے سبب اسے ہزار سے تعبیر کیا۔ تینوں موالید جمادات، نباتات، حیوانات، اور چاروں عناصر ، اور سات آسمان ، اور فلک ثوابت، فلک اطلس، کرسی، عرش ۔
(📗فتاوی رضویہ شریف جلد ۲۹ صفحه ۲۵۴)
جو حضرات کہتے ہیں اٹھارہ ہزار مخلوقات ہیں وہ غلط کہہ رہے ہیں اور جو حضرات کہتے ہیں کہ اٹھارہ ہزار عالم ہے وہ صحیح کہہ رہے ہیں کہ اگر چہ اٹھارہ عالم ہے مگر کثرت مخلوقات کے سبب اٹھارہ ہزار ہی مشہور ہے ۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب
۔(📗ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلداول صفحہ ٣٦١)
۔📝 محمد افروز احمد مجاہدی
اسی طرح اور مسائل پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں

0 تبصرے