(20)
اگر مارنے کی دھمکی دے تو کفر کر سکتے ہیں؟
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مسئلہ: ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی مسلح کافرقتل کی صحیح دھمکی دے کر بت کو سجدہ کرنے کا حکم دے تو کیا جان بچانے کے لئے بت کو سجدہ کرنا ضروری ہو جائے گا؟
(🎤المستفتى : محمد شفيق رضا🎤)
🔸🔹🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملک الوہاب
ایسی صورت میں رخصت یہ ہے کہ بت کو سجدہ کر لے جبکہ دل ایمان پر مطمئن ہو اور عزیمت (جو کہ افضل ہے وہ ) یہ ہے کہ جان قربان کر دے مگر بت کو سجدہ نہ کرے۔ ہدایہ میں ہے اگر جان سے مار ڈالنے یا جسم کے کسی عضو کو ضائع کر دینے کی صحیح دیمکی دے کر کسی سے کہا جائے کہ اللہ عز وجل کا انکار کرے یا معاذ اللہ سرکار مدینہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو گالی دے تو اس کو اجازت ہے کہ اس بات کا اظہار کر دے جو اسے ( ظالم کی طرف سے ) حکم دیا۔گیا اور توبہ کرے ۔ پس اگر اس نے ۔
۔( ظالم کے کہنے مطابق ) ظاہر کر دیا اس حال میں کہ اس کادل ایمان پر جما ہوا ہو تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور اگر صبر کرے یہاں تک کہ شہید کر دیا جائے اورکفر کو ظاہر نہ کرے تو اس کو اللہ عز وجل کے ہاں اجر ملے گا۔
(📗ہدایہ جلد ۲ صفحہ ۲۷۴ ملخصا)
وهو تعالى اعلم بالصواب
۔(📗ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلداول صفحہ ٤٠٧)
۔📝 محمد افروز احمد مجاہدی
اسی طرح اور مسائل پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے