Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

امام کی غیبت کرنا اور مسلمان کو کافر کہنا کیسا ہے؟

( 19)

امام کی غیبت کرنا اور مسلمان کو کافر کہنا کیسا ہے۔

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ ایک نام نہاد مولوی ہے جو ایک دوسرے گاؤں میں جاتا ہے اور جانے کے بعد اس گاؤں کے امام صاحب کی لوگوں میں بیٹھ کر غیبت کرتا ہے اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہتا ہے کہ اس گاؤں کے لوگ کافر ہیں جو اس امام کو رکھے ہوئے ہیں اور جس امام کی غیبت کرتا ہے وہ آٹھ سال سے امامت کرتے ہیں اور امام صاحب اور گاؤں والے سنی صحیح العقیدہ ہیں تو وہ نام نہاد مولوی جو امام کی غیبت کرتا ہے اور گاؤں والوں کو کافر بھی کہتا ہے تو عرض طلب یہ ہے ایسے نام نہاد مولوی کے لئے حکم شرع کیا ہے؟قرآن وحدیث

 کی روشنی میں جواب عنایت فرما کر عنداللہ ماجورہوں

(المستفتى :- محمد شعبان رضا)

🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔸

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

بسم الله الرحمن الرحيم

الجواب بعون الملک الوہاب

کسی بھی مومن کی غیبت کرنا سخت نا جائز و حرام ہے حدیث شریف میں ہے: 

(عن ابی سعید و جابر قال قال رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم الغيبة اشد من الزنا قالوا يا رسول الله وكيف الغيبة اشد من الزنا قال ان الرجل ليزنى فيتوب فيغفرالله له وان صاحب الغيبة لا يغفر له حتى يغفرها له صاحبه

 حضرت ابو سعید و حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہما نے کہاکہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا غیبت زنا سے بدتر ہے صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ غیبت زنا سے بدتر کیوں کر ہے فرمایا آدمی زنا کرتا ہے پھر تو بہ کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کو اپنے فضل سے معاف فرمادیتا ہے لیکن غیبت کرنے والے کو اللہ تعالیٰ معاف نہیں فرماتا ہے جب تک کہ اس کو وہ شخص معاف نہ کر دے جس کی غیبت کی ہے ۔

فاسق معلن یا بد مذہب کی برائی بیان کرنا جائز ہے بلکہ اگر لوگوں کو اس کے شر سے بچانا مقصود ہو تو ثواب ملنے کی امید ہے لیکن امام کی برائی کرنا غیبت کرنا سخت ناجائز و حرام و گناہ کبیرہ ہے۔ 

۔(📗البیہقی: مشکوة شریف بہار شریعت /انوار الحدیث صفحه ۳۵۷)

 اور رہی بات بستی کے مسلمانوں کو کافر کہنے کی تو اس کے متعلق صاحب بہار شریعت حضرت علامہ مفتی امجد علی اعظمی رحمتہ اللہ علیہ بہار شریعت میں رقمطراز ہیں : کہ اگر کسی نے مسلمان کو کافر کہا تو تعزیر ہے یعنی سزا ہے اور قائل کافر ہوگا یا نہیں تو اس میں دو صورتیں ہیں اگر قائل یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ وہ کافر ہے اور جبکہ اس میں کوئی ایسی بات بھی نہیں پائی جاتی جس کی بنا پر تکفیر ہو سکے تو کہنے والا بلا شبہ کافر ہو گیا اس صورت میں تجدید ایمان بیوی والا ہو تو تجدید نکاح مرید ہو تو تجدید بیعت کرے اور توبہ کرے اور اگر بطور گالی کہا تو سخت نا جائز و حرام ہے اس صورت میں تو بہ کرے اور گالی دینے والے سے معافی مانگے اور دوبارہ ایسے گستاخانہ الفاظ نہ کہنے کا عہد کرے کچھ مال صدقہ کر دے کہ صدقہ دعا کی قبولیت میں معاون ہوتا ہے۔

۔(📗در مختار رد المحتار/ج ۶ ص ۱۱۱ بحوالہ بہار شریعت ح ۹ صفحه ۱۲۷/۱۲۶) 

والله اعلم بالصواب

(۔📗ماخوذمسائل شرعیہ جلد اول صفحہ 380)

۔📝محمد افروز احمد مجاہدی

اسی طرح اور مسائل پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے