(48)
🌹(کیا پانچ وقت کی نماز قرآن سے ثابت ہے؟ )🌹
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
۔🌹🌹مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ کیا قرآن کریم کی آیات سے یہ ثابت ہے کہ دن ورات میں پانچوں وقتوں کی نماز پڑھنا فرض ہے؟ بینوا توجروا🌹🌹۔
(🎤المستفتی: محمد معصور رضا کٹیہار بہار🎤)
🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملک الوہاب
جی ہاں قرآن کریم کی آیتوں سے ثابت ہے کہ دن اور رات میں پانچوں وقتوں کی نماز پڑھنا فرض ہے۔ قرآن مقدس میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے: "
وَ أَقِمِ الصَّلوةَ طَرَفي النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّيْلِ
اور نماز قائم رکھو دن کے دونوں کناروں اور کچھ رات کے حصوں میں۔
۔(📗سورة الھود آیت ١١۴)
تفسیر صراط الجنان میں ہے {و اقم الصلوة} : اور نماز قائم رکھو اس آیت میں دن کے دو کناروں سے صبح اور شام مراد ہیں ، زوال سے پہلے کا وقت صبح میں اور زوال کے بعد کا وقت شام میں داخل ہے۔ صبح کی نماز تو فجر ہے جب کہ شام کی نماز میں ظہر و عصر ہیں اور رات کے حصوں کی نماز میں مغرب و عشا ہیں۔ اور دوسری جگہ اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے :
۔{أَقِمِ الصَّلوةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَى غَسَقِ الَّيْلِ وَ قُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا} ،
نماز قائم رکھو سورج ڈھلنے سے رات کی اندھیری تک اور صبح کا قرآن بے شک صبح کے قرآن میں فرشتے حاضرہوتے ہیں۔
۔(📗بنی اسرائیل ، آیت : ۷۸ کنز الایمان )
تفسیر صراط الجنان میں ہے ! اقم الصلوة : نماز قائم رکھو اس آیت میں فرمایا کہ نماز قائم رکھو سورج ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک۔ اس دوران میں چار نمازیں آگئیں : ظہر ، عصرمغرب، عشاء، کیونکہ یہ چاروں نمازیں سورج ڈھلنے سے رات گئے تک پڑھی جاتی ہیں ۔ مزید فرمایاکہ صبح کا قرآن قائم رکھو، اس سے نماز فجر مراد ہے اور اس کو قرآن اس لئے فرمایا گیا کہ قرآت ایک رکن ہے۔ اور عربی کا ایک عام قاعدہ ہے کہ جز ( کسی شئی کا ایک حصہ ) بول کر
( پوری کی پوری شی) مراد ہوتی ہے جیسا کہ خود قرآن کریم میں ہی یہ قاعدہ کئی جگہ موجود ہے جیسے نماز کو رکوع و سجودسے بھی تعبیر کیا گیا ہے ۔
۔(📗خازن، الاسراء تحت الآیة: ۷۸، ۳/ ۱۸۵، مدارک، الاسراء تحت الآیة : ۷۸ ص٦٣٣، ملتقطاً)
۔(📗ماخوذ از فتاوی مسائل شرعیہ جلد دوم صفحہ ٣٣٦)
والله تعالى اعلم بالصواب
۔📝 محمد افروزاحمد مجاہدی
اسی طرح اوربھی مسائل پڑھنےکےلئے اس لنک پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے