Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

بھر دو جھولی میری یا محمد پڑھنا کیسا ہے؟

 (27)


بھر دو جھولی میری یا محمد پڑھنا کیسا ہے؟ 


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته


مسئلہ: کیا https://afrozahmadmujahidi.blogspot.comفرماتے ہیں علمائے کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ یا محمد کہنا حرام ہے تواسی طرح ایک کلام ہے

بھر دو جھولی میری یا محمد

لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی

اس کلام کو بہت سے شعراء نے پڑھا ہے، اس شعر کے پہلا مصرعہ میں یا محمد درج ہے تو اس کلام کو پڑھنا نیز پڑھنے والے پر حکم شرع کیا ہے؟ جواب ارسال فرمائیں عین و نوازش ہوگی؟۔


۔(🎤المستفتى : - محمد غفران رضا نعمانی جھارکھنڈالہند🎤)


وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب


یا محمد کہنا لکھنا حرام ہے کیوں کہ یہ سوئے ادب یعنی ادب کے خلاف ہے جیسے والد، پیر، استاد کو نام لے کر پکار نامنع ہے کہ بے ادبی ہے تو نبی کریم علیہ السلام کانام لیکر پکارنا کیوں کرجائز ہو گا ارشاد خداوندی ہے


( لَا تَجْعَلُوا دُعَآءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا) ..

 رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرالو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے۔

۔(📗کنز الایمان سورہ نور ۶۳)

اعلیٰ حضرت عظیم البرکت مجدد اعظم امام احمد رضا خاں علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتےہیں کہ نام پاک لے کر ندا کر نا حرام ہے، اگر روایت میں مثلا یا محمد آیا ہو تو اس کی جگہ بھی یا رسول اللہ کہے، اس مسئلہ کا بیان عظیم الشان فقیر کے( رساله تجلى اليقين بأن نبينا سيد المرسلين) -میں دیکھئیے 


۔ (📗فتاوی رضویہ جلد ۱۵ ص ۷۲ا دعوت اسلامی)


مذکورہ شعر کا پڑھنا جائز نہیں ہے جو پڑھے گا وہ گنہ گار ہو گا اس پر تو بہ لازم ہوگی اورجس نےلکھا ہے سب کے گناہوں کا بوجھ اس کے سر ہوگا اور اس پر بھی تو بہ لازم ہے۔ 


واللہ اعلم بالصواب


۔(📗ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلداول صفحہ ٤١٠)


۔📝 محمد افروز احمد مجاہدی


اسی طرح اورمسائل پڑھنےکےلیےلنک پرکلک کریں 

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے