Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

کپڑا واشنگ مشین میں دھونا کیسا ہے؟

 (28)


کپڑا واشنگ مشین میں دھونا کیسا ہے؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ نجس کپڑے کو واشنگ مشین سے نجاست دور کرنے سے کپڑا پاک مانا جائے گا یا نا پاک؟


۔(🎤المستفتي : - حافظ بدر الدین رضوی مقام جمونیا ٹولہ نیکو انا کشی نگر یوپی🎤)


🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸

وعليكم السلام ورحمة الله و بركاته

بسم الله الرحمن الرحيم

الجواب بعون الملک الوہاب

فقہائے کرام نے ناپاک اشیاء کے پاک کرنے کا جو طریقہ ارشاد فرمایا ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر نجاست مرئیہ ہے تو اس سے طہارت عین نجاست کے زائل ہو جانے سے ہوگی خواہ ایک بار دھونے سے یا متعدد بار سے اور اگر نجاست غیر مرئیہ ہے تو جس چیز پر وہ لگی ہے اگر نچوڑ نے کے قابل ہے تو تین بار دھونے اور ہر بار نچوڑے اس طرح وہ پاک ہو جائے گی جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں ہے

۔(وان ازالتها ان كانت مرئية بإزالة عينها واثرها ان كانت شيئايزول أثره ولا يعتبر فيه العدد كذا في المحيط " فلو زالت عينها بمرة اكتفى بها؛؛)

اور اسی میں ہے کہ وان كانت غير مرئية يغسلها ثلاث مرات كذا في المحيط يشترط العصر في كل مرة فيما ينعصر "

۔ ( 📗ج ١ ص۴۱: کتاب الطہارة )

ان عبارات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ واشنگ مشین میں دھوئے جانے والے کپڑوں پر اگر نجاست مرئیہ لگی تھی اور وہ دھونے سے زائل ہوگئی تو کپڑے پاک ہو گئے ان کا پہنناجائز اور ان میں نماز درست ہے اوراگر نجاست زائل نہیں ہوئی تو ان میں نماز ناجائز ہے اور اگر نجاست غیر مرئیہ لگی تھی تو ان کو واشنگ مشین یا اس جیسے کسی چھوٹے ٹپ وغیرہ میں دھونے کی صورت میں تین بار دھونا اور نچوڑ ناضروری ہے اس بات کو

 عمدۃ المحققین علامہ سعود کا سانی علیہ الرحمہ اپنے الفاظ میں تحریر فرماتے ہیں کہ 

واختلف فى انه هل يطهر بالغسل في الاواني بأن غسل الثوب النجس او البدن في ثلث اجانات قال ابو حنيفة و محمد يطهر حتى يخرج من الاجانة الثالثة طاهرا 


۔(📗بدائع الصنائع ج ۱ ص ۲۴۷ : فی ترتیب الشرائع كتاب الطہارۃ)

اور در مختار میں ہے کہ " 

و قدر بغسل وعصرثلاثافيهماينعصرمبالغابحيث لا يقطر

۔(📗 ج ا ص ۵۴ : باب الانجاس ) 

البته واشنگ مشین میں پاک کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ کپڑے کو دھونے کے بعدمشین میں لگے نیچے کا پائپ کھول دیں پھر دیر تک اوپر سے پانی بہاتا رہے اور مشین چلتی رہے یہاں تک کہ گمان ہو جائے کہ نجاست دور ہوگئی۔ 

بدائع الصنائع میں ہے کہ 

و اما طريق التطهير بالغسل فلا خلاف ان النجس يطهر بالغسل في الماء الجاري و كذا يطهر بالغسل بصب الماء عليه اھ 

۔(📗ج ا ص ۲۴۷ : کتاب الطہارة ) 

لہذا مذکورہ طریقے پر عمل کرنے سے واشنگ مشین سے دھلے ہوئے کپڑے پاک ہو جائیں گے لیکن بہتر ہے کہ ناپاک کپڑے کو پہلے پاک کر لیا جائے پھر مشین میں ڈال کر دھلاجائے 

۔(📗 فتاوی علیمیہ ج ا ص ۹۶ ۹۷ )

واللہ اعلم بالصواب

۔(📗ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلددوم صفحہ ٥٥)۔


۔📝 محمد افروز احمد مجاہدی

اسی طرح اوربھی مسائل پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کریں

👇👇👇👇👇

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے