(307)
کیا قرض پر مطلقاً زیادتی ربا ہے؟نیز ربا کی تعریف؟
--------------------------------
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے اپنے کسی جاننے والے کو ایک لاکھ (1,00,000) روپے قرض کے طور پر دیے تاکہ وہ ضرورت کے وقت استعمال کر کے بعد میں واپس کر دے۔ کچھ عرصے بعد جب وہ شخص قرض کی رقم واپس کرنے لگا تو اُس نےبغیر کسی شرط،وعدے یا دباؤ کے اپنی خوشی اور رضامندی سے ہر ماہ ایک ایک ہزار روپے بطورِ تحفہ یا احسان کے طور پر قرض دینے والے کو دینا شروع کر دیا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ:
کیا شرعِ مطہرہ کی رو سے یہ ایک ایک ہزار روپے لینا یا دینا جائز ہے؟
اور کیا یہ عمل سود (ربا) کے حکم میں داخل ہوگا یا نہیں؟
نیز سود کی شرعی تعریف بھی بیان فرما دیں تاکہ مسئلہ پوری طرح واضح ہو جائے۔
--------------------------------
سائل:-اشفاق رضا جمالی رامپوری/انڈیا
--------------------------------
حـــــامــــــداً و مـصلیــــــا و مـبســـلا
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
الجواب ھـو الـمـوفـق للحـق وللصـوابـــــ!
مقروض قرض واپس کرتے وقت اگر قرض سے زیادہ لوٹانے اور یہ زیادہ دینا عقد میں کسی اعتبار سے شرط نہ لگائے ہوں،بلکہ مقروض بغیر کسی قید وشرط کے صرف اپنی رضا سےجو کچھ منافع کی شکل میں دے توشرعاً یہ سود نہیں ہےاس منافع کا لینا جائز و حلال ہے یہ منافع دینا فقط جائز ہی نہیں ہےبلکہ اچھے اخلاق میں سے ہے۔ اور یہ دینا ہدیہ یے۔
لہذا مسئلہ مسئولہ میں اگرمعاملہ پہلے سےطےنہیں تھا کہ واپسی میں منافع زیادہ آےگی تو آپ کا اپنی خوشی سے کچھ زیادہ دینا اور لینے والےکالیناجائزہے۔
حدیث پاک میں ہے:📚
۔*(١)* جابر بن عبدالله..... وكانَ لي عليه دَيْنٌ، فَقَضانِي وزادَنِي
حضرت جابر بن عبد اللہ فرماتےہیں،
میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضرہوا،میرا کچھ قرض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کےذمے پرتھا،تو آپ نے میرا قرض لوٹایا اور مجھے(میرے قرض سے)زیادہ دیا۔
(متفق علیہ الباحث الحدیثی ایپ)
۔*(٢)* فإنَّ خيارَ النّاسِ أحسنُهُم قَضاءً📚
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہتر انسان وہ ہے جو دین لوٹاتے وقت بہتر شے دے۔
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:
من استقرض شيئافرد أحسن أو أكثر منه من غير شرطه كان محسنا ويحل ذلك للمقرض،؛؛؛؛؛وليس هو من قرض جر منفعة ; لأن المنهي عنه ما كان مشروطا في عقد القرض،
وقال النووي رحمه الله: يجوز للمقرض أخذ الزيادة سواء زاد في الصفة أو في العدد،
جو کسی سے قرض لے اور واپسی میں اس سے بہتر یا زیادہ واپس کرے جبکہ اس کی پہلے سے شرط نہ ہو تو ایسا کرنے والا نیکی کرنے والا ہے اور قرض دینے والے کےلیے بھی یہ زیادتی لیناجائز ہے۔۔۔ یہ وہ قرض نہیں جو منافع لایا کہ ممنوع وہ منافع ہے جو قرض میں مشروط ہو۔
امام نووی رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا زیادتی صفت میں ہو یا عدد میں دونوں جائز ہے
(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ص ١٩٥٤ المكتبة الشاملة)
المحيط البرهاني میں ہے📚:
وإذا أرجح في بدل القرض ولم يكن الرجحان مشروطا في القرض فلا بأس به،
اگر کوئی قرض کے بدلے میں زیادہ دے اور یہ زیادہ دینا مشروط نہ ہو تو اس میں حرج نہیں۔(المحيط البرهاني ص١٢٨ المكتبة الشاملة)
الدر المختارشرح تنويرالأبصار،وجامع البحارمیں ہے:📚
فإن قضاه أجود بلا شرط جاز
اگرقرض کی ادائیگی میں بغیرشرط کےاچھی چیزواپس کی توجائزہے۔(الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار ص٤٣٠ المكتبة الشاملة)
بہار شریعت میں ہے📚:
واپسی قرض میں اُس چیز کی مثل دینی ہوگی جولی ہےنہ اُس سے بہتر نہ کمتر ہاں اگربہتر ادا کرتا ہے اور اس کی شرط نہ تھی توجائز ہے،دائن اُس کولے سکتا ہے۔ یوہیں جتنا لیا ہے ادا کے وقت اُس سے زیادہ دیتا ہےمگر اس کی شرط نہ تھی یہ بھی جائز ہے۔
(بہار شریعت ج٢ح١١ص٧٦٤ دعوت اسلامی ایپ ایسے ہی فتاویٰ اہلسنت فتویٰ نمبر: WAT-4096 تاریخ اجراء: ١٠صفر المظفر ١٤٤٧ھ /٥ اگست ٢٠٢٥ء)
سود کی تعریف
سود کو عربی زبان میں ربا کہتے ہیں جس کا لغوی معنی ہے بڑھنا، اضافہ ہونا، بلند ہونا
شرعی اصطلاح میں ربا (سود) کی تعریف یہ ہے کہ قرض دے کر اس پر مشروط اضافہ یا نفع لینا یا کیلی (ناپ کر بیچی جانے والی) یا وزنی (تول کر بیچی جانے والی) چیز کے تبادلے میں دونوں فریقوں میں سے کسی ایک کو ایسی زیادتی کا ملنا جو عوض سے خالی ہو اور عقد میں مشروط ہو۔
فتاویٰ رضویہ میں ہے:📚
قرض دینے والے کو قرض پرجو نفع جوفائدہ حاصل ہو وہ سب سود اورنراحرام ہے۔
(فتاویٰ رضویہ ج١٧ص٧١٣ رضا فائونڈیشن لاہور)
المفردات في غريب القرآن میں ہے:📚
والربا: الزيادة على رأس المال،لكن خص في الشرع بالزيادة على وجه دون وجه،
اصل مال پر زیادتی کو ربا کہتے ہیں لیکن شریعت میں ہر زیادتی کو ربا نہیں کہتے بلکہ وہ زیادتی جو مشروط ہو، سود ہے، شرط کے بغیر اگر مقروض ، دائن کو خوشی سے کچھ زائد مال دے تو جائز ہے سود نہیں۔(المفردات في غريب القرآن ص٣٤٠المكتبة الشاملة)
واللہ تعـــالیٰ اعلم بالصـوابــــــــــــ
کـتبــہ:-محمد صغیر عالم علیمی گلابپوری المتدرب علی الافتاء فیضان سیدہ عائشہ اکیڈمی
تصحیح و تصدیق حضرت مفتی محمد مجیب قادری حنفی العربی دار الافتاء البرکاتی علماء فاؤنڈیشن شرعی سوال وجواب ضلع سرہا نیپال

0 تبصرے