Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

ننگے سر پیشاب و پاخانہ کرنا کیسا ہے؟

 (29)



 ننگے سر پیشاب و پاخانہ کرنا کیسا ہے؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته


مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ ننگے سر پیشاب و پاخانہ کرنا کیسا ہے؟ کسی چیز پر اللہ و رسول و قرآنی آیت لکھی ہوئی ہو اس کو بے پردہ استنجاء خانہ میں لے جانا کیسا ہے؟ استنجاء کرنے کا مسنون طریقہ کیا ہے؟ بینو او تو جروا


۔(🎤المستفتی:- ڈاکٹر ملک محمد غفران نظامی علیمی علی گڑھ🎤)۔


🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸


وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته 

بسم الله الرحمن الرحيم

الجواب بعون الملک الوہاب

نگے سر پیشاب و پاخانہ کرنا منع ہے کہ یہ خلاف سنت ہے کوئی ایسی چیز اپنے ہمراہ اسنتجاءخانہ میں بے پردہ لے جانا جس پر دعائیں یا اللہ عز وجل رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یا کسی صحابی ولی، بزرگ، وغیرہ کا نام لکھا ہو ممنوع ہے جیسا کہ فقیہ اعظم حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ علامہ مفتی محمد امجد علی رضوی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ : کھڑے ہو کر یا لیٹ کر یا ننگے ہو کر پیشاب کرنا مکروہ ہے۔ نیز ننگے سر پاخانہ، پیشاب کو جانا یا اپنے ہمراہ ایسی چیز لے جانا جس پر کوئی دعا اللہ و رسول یا کسی بزرگ کا نام لکھا ہو ممنوع ہے۔ یو ہیں کلام کرنا مکروہ ہے۔

۔(📗الفتاوی الہندیة " كتاب الطهارة .الباب السابع في النجاسة وأحكامها، الفصل الثالث ، جلد اول صفحہ ۵۰ بحوالہ بہار شریعت ح دوم )

استنجا کرنے کا مسنون طریقہ : ۔ 

جب تک بیٹھنے کے قریب نہ ہو کپڑا بدن سے نہ ہٹائے اور نہ حاجت سے زیادہ بدن کھولے، پھر دونوں پاؤں کشادہ کر کے بائیں پاؤں پر زور دے کر بیٹھے اور کسی مسئلہ دینی میں غور نہ کرے کہ یہ باعث محرومی ہے اور چھینک یا سلام یا اذان کا جواب زبان سے نہ دےاور اگر چھینکے تو زبان سے الحمد لله نہ کہے ، دل میں کہہ لے اور بغیر ضرورت اپنی شرمگاہ کی طرف نظر نہ کرے اور نہ اس نجاست کو دیکھے جو اس کے بدن سے نکلی ہے اور دیر تک نہ بیٹھے کہ اس سے بواسیر کا اندیشہ ہے اور پیشاب میں نہ تھوکے، نہ ناک صاف کرے، نہ بلا ضرورت کھنکارے ، نہ بار بار ادھر ادھر دیکھے، نہ بے کار بدن چھوئے، نہ آسمان کی طرف نگاہ کرے بلکہ شرم کے ساتھ سر جھکائے رہے۔ جب فارغ ہو جائے تو مرد بائیں ہاتھ سے اپنے آلہ کو جڑ کی طرف سے سر کی طرف سونتے کہ جو قطرے رُکے ہوئے ہیں نکل جائیں پھر ڈھیلوں سے صاف کر کے کھڑا ہو جائے اور سیدھے کھڑے ہونے سے پہلے بدن چھپالے جب قطروں کا آنا موقوف ہو جائے، تو کسی دوسری جگہ طہارت کے لیے بیٹھے اور پہلے تین تین بار دونوں ہاتھ دھولے اور طہارت خانہ میں یہ دعا پڑھ کر جائے۔ 

(بِسْمِ اللهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى دِينِ الْإِسْلَامِ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَهِّرِينَ الَّذِينَ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ )

الله کے نام سے جو بہت بڑا ہے اور اسی کی حمد ہے خدا کا شکر ہے کہ میں دین اسلام پر ہوں ۔ اے اللہ تو مجھے تو بہ کرنے والوں اور پاک لوگوں میں سے کر دے جن پر نہ خوف ہے اور نہ وہ غم کریں گے۔ 

پھر داہنے ہاتھ سے پانی بہائے اور بائیں ہاتھ سے دھوئے اور پانی کا لوٹا اونچا رکھے کہ چھینٹیں نہ پڑیں اور پہلے پیشاب کا مقام دھوئے پھر پاخانہ کا مقام اور طہارت کے وقت پاخانہ کا مقام سانس کا زور نیچے کو دے کر ڈھیلا رکھیں اور خوب اچھی طرح دھو ئیں کہ دھونے کے بعد ہاتھ میں بو باقی نہ رہ جائے، پھر کسی پاک کپڑے سے پونچھ ڈالیں اور اگر کپڑا پاس نہ ہو تو بار بار ہاتھ سے پونچھیں کہ برائے نام تری رہ جائے اور اگر وسوسہ کا غلبہ ہو تو رو مالی پر پانی چھڑک لیں، پھر اس جگہ سے باہر آ کر یہ دعا پڑھیں -( الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ الْمَاءِ طَهُورًا وَالْإِسْلَامَ نُورًا وَقَائِدًا وَدَلِيْلًا إِلَى اللهِ وَإِلَى جَنَّاتِ النَّعِيمِ اللَّهُمَّ حَصنُ فَرْجِي وَطَهِّرْ قَلْبِي وَمحص ذُنُوبِي) . 

تعریف (حمد) ہے اللہ کے لیے جس نے پانی کو پاک کرنے والا اور اسلام کو نور اور خدا تک پہنچانے والا اور جنت کا راستہ بتانے والا کیا اے اللہ ! تو میری شرم گاہ کو محفوظ رکھ اور میرے دل کوپاک کر اور میرے گناہ دور کر 

۔(📗الفتاوى الهندية كتاب الطهارة، الباب السابع في النجاسة وأحكامها، الفصل الثالث جلد اول ، صفحہ ۵۰ : و رد المحتار بكتاب الطهارة فصل الاستنجاء مطلب في الفرق بين الاستبراء إلخ، جلد اول صفحه۶۱۵ بحوالہ بہار شریعت جلد اول حصہ دوم صفحه ٤١٥ المكتبة المدينة دعوت اسلامی ) 


واللہ تعالی اعلم بالصواب


۔(📗ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلددوم صفحہ ٩١/٩٠)


۔📝 محمد افروز احمد مجاہدی

اسی طرح اوربھی مسائل پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں 

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com



ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے