Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

مسلمان کوپرفیوم لگانا کیسا ہے؟

 (30)



 مسلمان کوپرفیوم لگاناکیساہے؟


السلام عليكم ورحمة الله و بركاته

?مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ پر فیوم لگانا کیسا ہے؟ حوالے کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی


(🎤المستفتى :- ضياء ممتاز🎤)


🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته 

بسم الله الرحمن الرحيم 

الجواب بعون الملک الوہاب


پر فیوم (سینٹ ) لگانا ناجائز و حرام ہے خواہ داخل نماز ہو یا خارج نماز ؛ کیوں کہ اس ( پر فیوم ) میں اسپرٹ کی آمیزش ہوتی ہے اور اسپرٹ شراب کی ایک قسم ہے جو کہ حرام اور نجاست غلیظہ ہے فتاوی رضویہ میں ہے " (ان اسمار تو وھی روح النبيذ خمر قطعاً بل من أخبث الخمور فهي حرام ورجس نجس نجاسة غليظة كالبول )، 

یعنی اسپرٹ جو روح نبیذ ہے اور شراب کی ایک قسم ہے بلکہ وہ شرابوں میں سب سے گندی شراب ہے تو یہ حرام بھی ہے، نا پاک بھی ہےاور اس کی نجاست پیشاب کی طرح نجاست غلیظہ بھی ۔


۔ (📗فتاویٰ رضویہ ج ۲ ص ۱۲) 

فتاوی امجد یہ میں ہے کہ الکحل اور اسپرٹ وغیر و رقیق و سیال مسکرات کا قطرہ قطرہ ناپاک وحرام و نا جائز ہے، حدیث شریف میں ہے : (ما اسکر کثیره فقلیله حرام) " 

۔(📗فتاویٰ امجدیہ ج ۲ ص ۱۰۵) 

لہذا اگر پر فیوم لگا کر نماز پڑھی اور وہ ایک درہم سے زیادہ ہے اگر چہ چند جگہ مل کر وہ مقدار پوری ہو تو ایسی صورت میں نماز نہیں ہوگی اس کا پاک کرنا فرض ہے، اور اگر درہم کے برابر ہے تو در این صورت نماز مکروہ تحریمی ہوگی پاک کپڑے پہن کر نماز کو دہرانا واجب ہوگا، اور آگر ایک درہم سے کم ہے تو اسے پاک کرنا سنت ہے بے پاک کئے نماز پڑھی تو نماز ہو جاے گی مگرخلاف سنت ہوگی۔

بہار شریعت میں ہے کسی کپڑے یا بدن پر چند جگہ نجاست غلیظہ لگی اور کسی جگہ درہم کے برابر نہیں مگر مجموعہ درہم کے برابر ہے تو درہم کے برابر سمجھی جائے گی اور زائد ہے تو زائدا گر نجاست گاڑھی ہے جیسے پاخانہ، لید گو بر تو درہم کے برابر یا کم یا زیادہ کے معنی یہ ہیں کہ وزن میں اس کے برابر یا کم یا زیادہ ہو اور درہم کا وزن شریعت میں اس جگہ ساڑھے چار ماشے ہے اور اگر پتلی ہو جیسے آدمی کا پیشاب اور شراب تو درہم سے مراد اس کی لمبائی چوڑائی ہے اور شریعت نے اس کی مقدار ہتھیلی کی گہرائی بتائی یعنی ہتھیلی خوب پھیلا کر ہم وار رکھیں اور اس پر آہستہ سے اتنا پانی ڈالیں کہ اس سے زیادہ پانی رک نہ سکے اب پانی کا جتنا پھیلاو ہے اتنا بڑا درہم سمجھا جاۓ اور اس کی مقدار یہاں کے روپے کے برابر ہے ۔

۔ (📗بہار شریعت ح دوم ص ۸۳ بحوالہ تربیت افتاء جلد اول ص ۲۱۸)


والله تعالى أعلم


۔(📗ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلددوم صفحہ ١٠٤/١٠٣)


۔📝 محمد افروز احمدمجاہدی

اسی طرح اور مسائل پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کریں 

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com



ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے