(31)
کسی مسلمان کو بدن پر ٹیٹو بنوانا کیسا ہے؟
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ جو لوگ بدن پر ٹیٹو بنواتے ہیں شریعت مطہرہ میں ایساکرنے والے پرکیاحکم ہے؟ مدلل و مفصل جواب عنایت فرمائیں؟
(🎤المستفتى :- اسلم رضا🎤)
🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹
وعليكم السلام ورحمة الله و بركاته
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملک الوہاب
اعضائے جسمانیہ پرکسی طرح بذریعہ ٹیٹو ڈیزائن بنوانا یا نام لکھوانا شر عا ناجائز وممنوع ہے۔ کہ یہ اللہ تعالی کی بنائی ہوئی چیز میں تغیر یعنی تبدیلی کرنا ہوا اور اللہ تعال کی تخلیق میں تبدیلی ناجائز و گناہ ہے اور ٹیٹو ایک کار شیطان ہے چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے:
۔( وَلَا مُرَنهُمْ فَلَيُغَيرُنَّ خَلْقَ اللہ ( شیطان بولا ) میں انہیں ضرور حکم دوں گا تو یہ اللہ کی پیداکی ہوئی چیزیں بدل دیں گے)
(سوره نساء آیت ۱۱۹)
اس آیت مقدسہ کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں ہے کہ جسم کو گود کرسرمہ یاسندور وغیرہ جلدمیں پیوست کر کے نقش و نگار بنانا، بالوں میں بال جوڑ کر بڑی بڑی جٹیں بنانا بھی اس میں داخل ہے ۔
۔ (📗 تفسیر خزائن العرفان سورہ نساء تحت آیت ۱۱۹)
حدیث مبارکہ میں بھی ایسے امور کی ممانعت آئی ہے جیسا کہ مسلم شریف میں ہے
۔( لعن الله الواشمات والمستوشمات المغيرات خلق الله)
اللہ کی لعنت ہو گودنے والوں اور گودوانے والیوں پر اللہ کی تخلیق میں تبدیلی کرنے والوں پر
۔ (📗صحیح مسلم شریف جلد دوم ۲۰۵ مکتبہ نعیمی کتب خانہ)
اس حدیث مبارکہ کے لفظ (و اشمات) کی تشریح کرتے ہوئے حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ (واشمہ)وہ عورت جو سوئی وغیرہ کے ذریعہ اپنے اعضاء میں سرمہ یا نیل گودوالےجیساکہ ہندوعورتیں اوربعض ہندو مردکرتے ہیں۔
۔(📗مراۃ المناجیح جلد ۶ ص ۱۵۳ کتب نعیمی کتب خانه )
نیز نیٹو سے جو نام یا ڈیزائن بناتے ہیں تو یہ عموماً مشین یا سوئی کے ذریعہ کھدوایا جاتا ہے جس سے کافی تکلیف ہوتی ہے اور اپنے جسم پر جو اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے اس کو بلا وجہ کی تکلیف دینا بھی جائز نہیں بلکہ گناہ ہے کیونکہ انسان اپنے نفس کا مطلقا مالک نہیں بلکہ یہ اللہ تعالی کی ملکیت ہے جیساکہ ارشاد الساری شرح صحیح البخاری میں ہے کہ:
۔(ان جناية الانسان على نفسه كجناية على غيره في الاثم لان نفسه ليست ملكاً له مطلقاً بل هى الله فلا ينصرف فيهاالايمان اذن له فيه)"
بیشک انسان کی اپنے نفس پر زیادتی گناہ ہے جیسا کہ دوسرے پر زیادتی گناہ ہے
کیونکہ انسان اپنے نفس کا مطلقاً مالک نہیں بلکہ یہ اللہ تعالی کی ملکیت ہے پس اس میں وہی تصرف جائز ہے جس کی اجازت دی گئی ہے ۔
۔(📗ارشاد الساری الشرح صحیح البخاری جلد١٤ ص ۷۲ )
اگر کسی مسلمان نے اپنے اعضائے جسمانیہ پرکسی طرح کا ڈیزائن یا نام بذریعہ مشین ( ٹیٹو ) بنوایا ہے تو اس پر تو بہ لازم ہے اور بغیر تغیر اس کو ختم کرنا ممکن ہے تو مٹادے اوراگربغیر تغیرختم کرنا ناممکن ہے تو اس کو اسی حال پر رہنے دے تو بہ واستغفار کرے۔
چنانچہ اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ اسی طرح کے ایک سوال کا جواب تحریر فرماتے ہیں کہ : یہ غالبا خون نکال کر اسے روک کر کیا جاتا ہے جیسے نیل گدوانا اگر یہی صورت ہے تو اس کے ناجائز ہونے پر کلام نہیں اور جبکہ اس کا ازالہ ناممکن ہے تو سوا تو بہ و استغفار کےکیاعلاج ہے مولی تعالی توبہ قبول فرماتا ہے۔
۔(📗فتاوی رضویہ شریف جلد ۲۳ ص۳۸۷مکتبہ رضافاؤنڈیشن)
۔(📗ماخوذ از فتاوی یورپ و برطانیہ ص٤۵٤)
و الله اعلم و رسوله بالصواب
۔(📗ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلددوم صفحہ ١١٩)
۔📝 محمد افروز احمد مجاہدی
اسی طرح اوربھی مسائل پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے