(32)
(۔(کیابرش مسواک کےقائم مقام ہے؟
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
۔مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ کیا برش مسواک کے قائم مقام ہو سکتا ہے یانہیں؟ اور اگر اس کے قائم مقام ہو سکتا ہے تو اس سے سنت کی ادائیگی ہوگی یا نہیں؟۔
(🎤المستفتى :- بندۂ خدا🎤)
🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملک الوہاب
آپ کے سوال سے بات واضح نہیں ہے کہ برش مسواک کے قائم مقام ہے یا سنت وضو کے لئے جو مسواک کیا جاتا ہے اس کے قائم مقام ہے؟ اگر پوچھنے کا مطلب مطلقا مسواک کے قائم مقام ہے تو اسکا جواب یہ ہے کہ برش مسواک کا قائم مقام نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اس سے مسواک کی سنت ادا ہو گی کیونکہ حضور علیہ السلام نے مسواک کی ہے نہ کہ برش حدیث شریف میں مسواک کا ذکر ہے جیسا کہ ابن ماجہ میں ہے
عنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهٙ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَسَوَّكُوا فَإِنَّ السِّوَاكَ مَطْهٙرَةٌ لِلْفَمِ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ مَا جَائٙنِي جِبْرِيلُ إِلَّا أَوْصَانِي بِالسِّوَاكِ، حَتّٙى لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يُفْرَضَ عَلَىّٙ وَعَلَى أُمَّتِي، وَلَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَفَرَضْتُهُ لَهُمْ ، وَإِنِّي لَأَسْتَاكُ حَتَّى لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ أُحْفِيَ مَقَادِمَ فٙمِی
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسواک کرو اس لیے کہ مسواک منہ کو پاک کرنے کا ذریعہ اور اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا سبب ہے۔ جبرائیل جب بھی میرے پاس آئے تو انہوں نے مجھے مسواک کی وصیت کی، یہاں تک کہ مجھے ڈرہوا کہ کہیں میرے اور میری امت کے اوپر اسے فرض نہ کر دیا جائے، اوراگر یہ بات نہ ہوتی کہ مجھے ڈر ہے کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈال دوں گا تو امت پر مسواک کو فرض کر دیتا ، اور میں خود اس قدر مسواک کرتا ہوں کہ مجھے ڈر ہونے لگتا ہے کہ کہیں میں اپنےمسوڑھوں کو نہ چھیل ڈالوں ۔
(📗ابن ماجہ حدیث نمبر ۲۸۹)
اور اگر آپ کے پوچھنے کا مقصد یہ ہے کہ برش کرنے سے وضو کی سنت ادا ہو جائے گی یعنی مسواک نہ ہونے کی صورت میں برش کرلے تو سنت وضو ادا ہو جائے گی یا نہیں ؟ تو اس کا جواب ہے کہ سنت وضو ادا ہو جائے گی کیونکہ مسواک کرنے کا ماحصل ہے دانت منھ صاف کرنا جیسا کہ کتب فقہ میں ہے کہ اگر مسواک نہ ہو تو انگلی یا کپڑا سے دانت صاف کرے اور ایسی صورت میں سنت وضو ادا ہو جائے گی جیسا کہ سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں مسواک موجود ہو تو انگلی سے دانت مانجنا ادائے سنت و حصول ثواب کے لئے کافی نہیں، ہاں مسواک نہ ہو تو انگلی یا کھر کھرا کپڑا ادائے سنت کر دے گا۔
۔(📗رسالہ بارق النور في مقادير ماء الطهور ۷۲۳۱ھ)
ظاہر سی بات ہے کہ کپڑا سے مطلقا دانت صاف کرنا سنت نہیں ہے کہ سنت رسول ہو مگر سنت وضو کے لئے کافی ہے یونہی برش بھی سنت وضو کے لئے کافی ہےجیساکہ ایک صفحہ پہلے سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں ” مسواک ہمارے نزدیک نماز کے لئے سنت نہیں بلکہ وضو کے لئے تو جو ایک وضو سے چندنمازیں پڑھے ہر نماز کے لئے اس سے مسواک کا مطالبہ نہیں جب تک منہ میں کوئی تغیر نہ آگیا ہو ہاں اگر وضو بے مسواک کر لیا تھا تو اب وقت نماز مسواک کرلے ۔
۔(📗رساله بارق النور في مقادير ماء الطهور ۷۲۳۱ )
اس عبارت سے بھی ظاہر ہے کہ مسواک کرنا یا انگی یا کپڑے سے دانت صاف کرنا صرف منھ کے تغیر کو دور کرنے کے لئے ہے اس لئے فرمایا کہ ہر نماز کے لئے اس سے مسواک کا مطالبہ نہیں جب تک منہ میں کوئی تغیر نہ اگیامطلب اگر تغیر آگیا ہو تو مسواک سے منہ صاف کرے اور نہ ہونے کی صورت میں انگلی یا کپڑا سے صاف کرے اور ظاہرسی بات ہے کہ منہ کی صفائی برش سے بھی ہو سکتی ہے اور جس طرح بانس اور انار کے درخت کو چھوڑ کر کسی بھی درخت کی ٹہنی سے مسواک کرنے کا حکم ہے کہ وہ سب مسواک میں داخل ہے اسی طرح برش بھی مسواک میں داخل ہے اور اس سے سنت وضو ادا ہو جائے گی جبکہ مسواک نہ ہو ۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ برش کرنا نہ حضور علیہ السلام سے ثابت ہے نہ ہی یہ سنت رسول ﷺ ہے مگر سنت وضو کے لئے مسواک نہ ہونے کی صورت میں برش مسواک کے قائم مقام ہے اور اس سے سنت وضو ادا ہو جائے گی ۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب
۔(📗ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلددوم ص١٢۴ /١٢۵)
۔📝 محمدافروزاحمدمجاہدی
اسی طرح اوربھی مسائلپڑھنےکےلئےاس لنک پرکلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے