(33)
۔(جو پانی دھوپ سے گرم ہو جائے اس سے وضو و غسل کرنا کیسا ہے؟۔
🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
۔مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ جو پانی دھوپ سے گرم ہو جائے اس سے وضو و غسل کرنا کیسا ہے؟ اور واٹر سپلائر کے لئے جوٹنکی بعض مساجد میں لگاتے ہیں اور وہ ٹنکی مسجد کے چھت پر رکھتے ہیں گرمی کے موسم میں اس ٹنکی کا پانی بہت گرم ہو جاتا ہے تو اس سے وضو و غسل کرناشرعاً کیسا ہے؟ بینوا توجروا۔
(🎤المستفتی : - ثناء اللہ قادری🎤)
🔶🔷🔶🔷🔶🔷🔶🔷🔶🔷🔶🔶
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملک الوہاب
جو پانی دھوپ سے گرم ہو جائے چاہے نل کا پانی ہو یا حوض کا یا تالاب کا یا واٹر سپلائر ٹنکی کا اس سے وضو و غسل کرنا مکروہ تنزیہی ہے کہ اس پانی سے برص کا مرض پیدا ہونے کا اندیشہ ہے لیکن اگر کوئی وضو و غسل کرلے تو اس کا وضو و غسل ہو جائے گا حدیث پاک میں ہے حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے ارشاد فرمایا کہ دھوپ کے گرم پانی سے وضو غسل نہ کرو کہ وہ برس پیدا کرتا ہے ۔
۔ (📗مشکوۃ المصابیح ص۵۴)
خلیفہ دوم امیرالمؤمنین سیدنا عمرفاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ حکیمانہ قول جو آپ نے شفا خانہ نبوت سے سیکھ کر بیان فرمایا بعض حکیموں طبیبوں نے اس کی تصدیق کی ہے۔
اور امام اہل سنت تاجدار علم وفن فقیہ الاسلام امام احمد رضا خاں قادری برکاتی رضی اللہ تعالی عنہ ارشاد فرماتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ دھوپ سے پانی جب تک گرم ہے اس سے وضو و غسل نہ چاہئے نہ ہی اس کو بدن پر کسی طرح پہنچانا چاہئے نہ ہی اس کو پینا چاہئے یہاں تک کہ اگر کپڑا اس سے بھیگ جائے تو جب تک ٹھنڈا نہ ہو جائے اس کے پہننے سے بچیں کہ اس پانی کے استعمال میں اندیشہ برس ہے پھر بھی اگر کوئی وضو و غسل کرلے تو ہو جائے گا۔
مزید ارشاد فرماتے ہیں کہ ہمارے نزدیک بھی اس پانی سے وضو و غسل مکروہ ہے اور یہ کراہت تنزیہی ہے جس سے احتیاط لازم ہے ۔
۔(📗ماخوذ از فتاوی رضویہ شریف ج ا ص ۴۱۲ رباب المياه )
۔(📗ماخوذازفتاویٰ مسائل شرعیہ جلددوم ص ١٣٠)
والله تعالى اعلم بالصواب
۔📝 محمد افروز احمد مجاہدی
اسی طرح اوربھی مسائل پڑھنےکےلۓاس پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے