Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

کیا انجکشن لگوانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

 (34)


کیا انجکشن لگوانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

۔مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ انجکشن لگوانے سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں؟جواب سے نوازیں مہربانی ہوگی۔


(🎤المستفتى : احمد رضا🎤)


وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته


🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔸🔹🔸


بسم الله الرحمن الرحيم

الجواب بعون الملک الوہاب

۔(1 ) گوشت میں انجکشن لگانے میں صرف اسی صورت میں وضو ٹوٹے گا جب کہ بہنے کی مقدار میں خون نکلے۔

۔ (۲) جب کہ اس کا انجکشن لگا کر پہلے خون اوپر کی طرف کھینچتے ہیں جو کہ بہنے کی مقدار میں ہوتا ہے لہذاوضو ٹوٹ جاتا ہے۔ 

۔(۳) اسی طرح گلوکوز وغیرہ کی ڈرپ نس میں لگوانے سے وضوٹوٹ جائے گا کیوں کہ بہنے کی مقدارمیں خون نکل کر نلکی میں آجاتا ہے ۔ ہاں اگر بہنے کی مقدار میں خون نلکی میں نہ آئے تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔

اور اسی طرح جدید فقہی مسائل میں ہے : باہرسےغذایادوا کی صورت میں کسی چیز کا اندر جاناناقض وضو نہیں ہے انجکشن پر جسم کا تھوڑاسا خون لگارہتا ہےاس مقدارمیں خون کاباہرآنابھی ناقض وضونہیں ہےاس لئے کہ وہ اتنی کم مقدار میں ہوتا ہے کہ بہہ نہیں سکتا چنانچہ فقہاء کہتے ہیں کہ اگر جسم سے خون نکلے اسے پونچھ دیا جائے اور اس کی مقدار اتنی کم ہو کہ نہ پونچھا جاتا تو بھی بہہ نہیں سکتا تووضو نہیں ٹوٹے گا۔ 

۔(📗جدید فقہی مسائل جلد اول صفحہ ۶۲)

اور فتاوی ہندیہ میں ہے:

۔( اذا خرج من الجرح دم قليل فمسحه ثم خرج ايضافمسحه فان كان الدم بحال لو ترك ما قد مسح منه فسال انتقض وضوئه وان كان لا يسيل لا ينتقض وضوئه) " 

جب زخم سے تھوڑا سا خون نکلے پھر اسے پونچھ ڈالے پھر دوبارہ خون نکلے اور اسے بھی پونچھ ڈالے تو اگر مجموعی طور پر خون کی مقدار اتنی ہو کہ پونچھا ہوا خون چھوڑ دینے کی صورت میں بہہ جاتا تو وضو ٹوٹ جائے گاورنہ نہیں ۔ 

۔(📗فتاوی ہند یہ جلد اول/ صفحہ ۶)

اور فتاوی شامی میں ہے: قال فی الدر وكذا ينقضه علقة مصّت عضوًا وامتلأت من الدم لإنها لو شقت يخرج منها دم سائل 

۔(📗الشامی زکریا، ج اول ص ۲۶۸) 

خلاصہ کلام یہ ہے کہ نس میں لگا کر اوپر کو خون چڑھایا اگر اس قدر خون او پر چڑھایا جو بہنے کی مقدار میں ہوتا ہے تو وضو جاتارہا۔ اور اگر خون اوپر کو نہیں چڑھایا یابہنےکی مقدار میں نہ چڑھایا تووضو نہ ٹوٹے گا۔ 

واللہ تعالی اعلم بالصواب

۔(📗ماخوذازفتاویٰ مسائل شرعیہ جلد دوم صفحہ ١۴۵)

۔📝 محمد افروز احمد مجاہدی 

اسی طرح اوربھی مسائل پڑھنے کیے لئےاس لنک پر کلک کریں  

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے