(35)
۔جنازہ کے وضو سے نماز پنجوقتی پڑھنا کیسا ہے؟۔
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
۔مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ کوئی شخص اگر صرف نماز جنازہ کے لئے وضو کرے اور اسی وضو سے نماز بھی ادا کرے تو کیا نماز ہو جائے گی ؟ مدلل و مفصل جواب عنایت فرمائیں۔ بینو او تو جروا۔
۔(🎤المستفتی : ڈاکٹر نثار احمد نظامی بھر ولیا سدھارتھ نگر🎤)
🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملک الوہاب
اگر کسی شخص نے خاص نماز جنازہ ہی کے لئے وضو کیا اور اس وضو سے دوسری نماز ادا کی تو نماز ہو جائے گی اس میں کوئی قباحت نہیں جیسا کہ استاذ الفقهاء حضور فقیہ ملت علامہ مفتی جلال الدین احمد الامجدی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں جو وضو کو صرف نماز جنازہ پڑھنے کی نیت سے کیا پھر اس وضو سے نماز ظہر پڑھی تو وہ ادا ہوگئی کسی دوسرے فرض یا سنت کو ادا کرنے کے لئے بلا ناقض وضو دوبارہ وضو کرنا ضروری نہیں۔ مسئلہ اصل یہ ہے کہ غیر کو اگر نماز جنازہ کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو اجازت ہے کہ پانی پر قدرت کے باوجود تیم کر کے نماز جنازہ میں شامل ہو جائے جیسا کہ فتاوی عالمگیری جلد اول مصری میں ہے
۔ (يجوز التيمم اذا حضرته جنازة والولى غيره فخاف ان اشتغل بالطهارة ان تفوته الصلوة ولا يجوز للولى وهو الصحيح)
اس صورت میں تیمم کا جواز اس مجبوری کے سبب ہے۔ کہ نماز جنازہ کی نہ قضا ہے نہ تکرار ۔ مگر اس تیم سے نہ وہ دوسری نمازیں پڑھ سکتا ہے اور نہ کوئی ایسا کام کر سکتا ہے کہ جس کے لئے باوضو ہونا شرط ہے۔ اس لئے کہ پانی پر قدرت کے باوجود ایک عذر خاص کے سبب تیم کو جائز قرار دیا گیا۔ہے تو وہ ( تیم ) نماز جنازہ ہی تک محدود رہے گا کہ دوسری نمازوں کے لئے وہ عذر نہ رہا۔
مسئلہ تو صرف اسی قدر تھا مگر عوام نے اسے کچھ کا کچھ مشہور کر دیا۔ حالانکہ جو شخص پانی پر قادر نہ ہو اگر نماز جنازہ کے لئے تیمم کرلے تو جب تک عذر باقی ہے وہ تیمیم سب نمازوں کے لئے کافی ہو گا۔ اور جب تیم جو وضو کا خلیفہ ہے اس کے لئے یہ حکم ہے تو اگر نماز جنازہ کے لئے وضو کیا گیا۔ جو اصل ہے تو وہ بدرجہ اولی سب نمازوں کے لیے کافی ہو گا۔
۔(📗فتاوی الرضویہ جلد اول باب التیم بحوالہ فتاوی فیض الرسول جلد اول )
و الله تعالى اعلم بالصواب
۔(📗ماخوذازفتاویٰ مسائل شرعیہ جلد دوم صفحہ ١۵٢)
۔📝 كتب محمد افروز احمد مجاہدی
اسی طرح اوربھی مسائل پڑھنےکےلئے اس لنک پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے