(286)
رہن میں رکھی ہوئی چیز اگر ہلاک ہوجائے تو دینا ہوگا یا نہیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الســــــــــلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے اہلسنت ومفتیان شرع مسئلہ ذیل کے تعلق سے
کہ زید نے بکر کے پاس موٹر سائیکل پر رہن رکھ کر 10 ہزار روپیہ بطور قرض لیا کچھ دن کے بعد بکر آکر زید کو بولا کہ موٹر سائیکل ہلاک ہوگئی (یعنی چوری ہو گئی یا آگ میں جل گئی) تو اب جب زید 10دس ہزار روپیہ واپس کرے گا تو بکر کو موٹر سائیکل دینا ہوگا یا نہیں؟
جواب عنایت فرمائیں۔۔۔۔
*سـائل:ـ حافظ نوشـاد عالم مرغیاچک بہار /انڈیا*
-----------------------------
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریــــــــــــــــــــــــم
وعلیــــــــــــکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجـواب:- بعـون المـلک الوھـابــــــــــــــــــــــــ
صورت مسئولہ میں شئ مرہون(موٹر سائیکل) راہن(یعنی رکھنے والا زید) نے مرتہن(یعنی بکرکے پاس) رکھا بعوض دس ہزار روپیہ لیکن وہ شئ مرہون(موٹر سائیکل)بکر کے پاس سے ہلاک ہو گئی تو ایسی صورت میں بکر کو شی مرہون دینا ہوگا۔۔
حاصل کلام یہ ہے کہ اگر واقعی میں سامان ہلاک ہوگیا تو سامان دینا ہوگا ۔
جیسا کہ فتاویٰ عالمگیری میں ہے
إذَا هَلَكَ الْمَرْهُونُ فِي يَدِ الْمُرْتَهِنِ أَوْ فِي يَدِ الْعَدْلِ يُنْظَرُ إلَى قِيمَتِهِ يَوْمَ الْقَبْضِ، وَإِلَى الدَّيْنِ، فَإِنْ كَانَتْ قِيمَتُهُ مِثْلَ الدَّيْنِ سَقَطَ الدَّيْنُ بِهَلَاكِهِ، وَإِنْ كَانَتْ قِيمَتُهُ أَكْثَرَ مِنْ الدَّيْنِ سَقَطَ الدَّيْنُ، وَهُوَ فِي الْفَضْلِ أَمِينٌ، وَإِنْ كَانَتْ قِيمَتُهُ أَقَلَّ مِنْ الدَّيْنِ سَقَطَ مِنْ الدَّيْنِ قَدْرُ قِيمَةِ الرَّهْنِ وَيَرْجِعُ الْمُرْتَهِنُ عَلَى الرَّاهِنِ بِفَضْلِ الدَّيْنِ۔
اگر مرہون شے مرتہن کے قبضہ میں ہلاك ہوگئی یا عادل کے قبضہ میں ہلاك ہوگئی تو قبضہ والے دین اس شی کی قیمت اور قرض کودیکھا جائے گا اگر اس شے کی قیمت قرض کی مثل ہے توقرض ساقط ہوجائے گا اور اگرقیمت زیادہ ہے تو قرض ساقط ہوجائے گا جو زائد ہے اس میں مرتہن امین ہوگا،اورقیمت قرض سے کم ہے مرہون کی قیمت کے برابر ساقط ہوجائے گا اور باقی قرض کے سلسلہ میں مرتہن راہن کی طرف رجوع کرےگا۔۔
( فتاویٰ ھندیہ/ الباب الثالث في هلاك المرهون بضمان او بغير ضمان/سوفٹویئر)
فتاویٰ رضویہ میں ہے:
بخلاف رہن اس میں حق مرتہن خاص شے مرہون سے متعلق ہوجاتاہے حتی کہ اگر مرہون اس کے پاس ہلاك ہوجائے تو بقدر اس کی قیمت کے دین ساقط ہوجاتاہے یہاں تک کہ اگر روز قبضہ مرتہن مرہون دین کے برابر یا اس سے اکثر تھی اور شے مرہون اس کے پاس تلف ہوگئی تو کل دین جاتا رہا،
(فتاویٰ رضویہ ج١٧ص٦٨٩مکتبہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
بہار شریعت میں ہے:
مرتہن کے پاس اگر مرہون ہلاک ہو جائے تو دَین اور اس کی قیمت میں جو کم ہے اُس کے مقابلہ میں ہلاک ہو گا مثلاً سو روپے دَین ہیں اور مرہون کی قیمت دوسو۲۰۰ہے توسو۱۰۰ کے مقابل میں ہلاک ہوا یعنی اس کا دَین ساقط ہو گیا اور مرتہن راہن کو کچھ نہیں دے گا اور اگر صورتِ مفروضہ میں مرہون کی قیمت پچاس روپے ہے تو دَین میں سے پچاس ساقط ہو گئے اورپچاس باقی ہیں اور اگر دونوں برابر ہیں تو نہ دینا ہے نہ لینا۔
(بہار شریعت ج٣ح١٧ص٧٠٣ دعوت اسلامی ایپ)
واللـہ اعـلم بالــــــصواب
*المتـدربـــــــــــ عـلـــــی الافــــتــــاء*
*محمد صغیـر عـالم علیـمی گلابپوری*
*فیضـــان سیــدہ عائـشہ اکیـڈمـی*
*تصحیح و تصدیق حضرت مفتی محمد مجیب قادری حنفی العربی دار الافتاء البرکاتی علماء فاؤنڈیشن شرعی سوال وجواب ضلع سرہا نیپال

0 تبصرے