(287)
اگر رومال ناپاک ہو اور مصلے پر رکھ کر اسی مصلے پر نماز پڑھائے تو شرعا کیا حکم ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان عظام اِس مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید ایک مسجد کا امام ہے اس کے کپڑے بھی پاک ہیں اور جس جگہ نماز پڑھائی ہے وہ بھی ہے پاک ہے لیکن زید ایک اپنے پاس رومال رکھتا ہے گلے میں ڈالنے والا اسکو اپنے گلے میں ڈال کر نماز پڑھا نے مصلے پر جاکر بیٹھ گیا رومال کو بھی مصلے پر رکھ دیا بعد میں پتہ چلا کہ وہ رومال ناپاک تھا
تو اب ایسی صورت میں نماز ہوگی یا نہیں
۔۲) سوال یہ ہے کہ ظہر کی نماز ۲ بجے ہوتی ہے امام صاحب جماعت سے ۳ منٹ پہلے پہنچے تو اب امام صاحب پہلے سنتیں پڑھیں یا بغیر سنتوں کے نماز پڑھا سکتے ہیں اور ایسے ہی فجر کی سنتوں کے تعلق سے بتائیں
جزاک اللہ خیرا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
المستفتی جمال الدین ازہری ٹانڈہ بادلی رامپور اتر پردیش انڈیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نحمده ونصلي علي رسوله الكريم.
وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته
الجواب بعونه تعالي عز وجل
نماز کے درست ہونے کے لیے دونوں پاؤں ہاتھ، گھٹنے اور پیشانی کی جگہ کا پاک ہونا ضروری ہے،مذکورہ صورت میں اگر رومال ناپاک تھا اور اسے مصلے پر رکھ کر اسی پر نماز پڑھا ہعنی رومال پر ہاتھ یا گھنٹے یا پیشانی رکھا پھر نماز نہیں ہوگی اور اگر رومال پر اعضاء نماز نہیں رکھا پھر نماز ہوجائے گی۔
اسی طرح ااگر مصلی جائے نماز کا ایک کنارہ ناپاک ہو تو وہ کنارہ چھوڑ کر دوسری حصے میں نماز پڑھنے سے نماز درست ہو جائے گی۔
البحرالرائق میں ہے
ولو صلى على بساط وعلى طرف منه نجاسة فالأصح أنه يجوز كبيرا كان أو صغيرا؛ لأنه بمنزلة الأرض فلا يصير مستعملا للنجاسة وهو بالطريق الأولى؛ لأن النجاسة إذا كانت لا تمنع في موضع الركبتين واليدين فههنا أولى۔۔۔وتحته في منحة الخالق:ونقل شارحها الشيخ إبراهيم الحلبي عبارة الخانية السابقة ثم قال فعلم أنه لا فرق بين الركبتين واليدين وبين موضع السجود والقدمين وهو الصحيح؛ لأن اتصال العضو بالنجاسة بمنزلة حملها وإن كان وضع ذلك العضو ليس بفرض. (كتاب الصلوة ،باب شروط الصلوة ج1، ص 282،ط:دار الكتاب)
2) مذکورہ صورت میں امام پہلے ظہر کی سنت پڑھے پھر جماعت کرائے۔ اسی طرح فجر میں بھی۔ مقتدی امام کو وقت دے۔ یا جو قابل امامت ہو اسے امامت کی اجازت دے دے اور امام ظہر کی قبلیہ سنت جماعت کے بعد دو رکعت کے بعد پڑھے۔اور فجر کی سنت چاشت کے وقت پڑھے
واضح رہے کہ ظہر سے پہلے کی چار رکعت سنتیں امام اور مقتدی دونوں کے لیے سنتِ مؤکدہ ہیں،امام اپنے وقت پر دس منٹ پہلے ائے تاکہ سنتیں اپنے وقت پر پڑھے۔
البناية شرح الهداية میں ہے
(بخلاف سنة الظهر حيث يتركها في الحالتين) أي في حال خشية الفوات، وحال عدمها م: (لأنه يمكنه أداؤها في الوقت) أي لأن الشأن يمكنه أداء سنة الظهر في وقت الظهر م: (بعد الفرض) أي بعد أداء فرض الظهر م: (هو الصحيح) أي أداء بعض الظهر بعد الفرض في الوقت هو الصحيح.(كتاب الصلاة، باب إدراك الفريضة، حكم من انتهى إلى الإمام في صلاة الفجر وهو لم يصل ركعتي الفجر، ج:2، ص:570، ط:دار الكتب العلمية)
حاشیۃ الطحطاوی میں ہے
وأما سنة الظهر القبلية إذا صليت بعد فإطلاق القضاء عليها مجاز على كل حال لأنها مفعولة في وقتها وإن قيل ان وقتها مخصوص بما قبل الفرض فتكون قضاء بعده."
(كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، ص:440، ط:دار الكتب العلمية)
فتاویٰ شامی میں ہے
(بخلاف سنة الظهر) وكذا الجمعة (فإنه) إن خاف فوت ركعة (يتركها) ويقتدي (ثم يأتي بها) على أنها سنة (في وقته) أي الظهر."
(كتاب الصلاة، باب إدراك الفريضة، ج:2، ص:58،)
وفيه أيضاً:
(وسن) مؤكدا(أربع قبل الظهر)...(وركعتان قبل الصبح وبعد الظهر والمغرب والعشاء) شرعت البعدية لجبر النقصان، والقبلية لقطع طمع الشيطان...(وست بعد المغرب) ليكتب من الأوابين.(كتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل، ج:2، ص:12-13،)
فتاوی جامعہ اشرفیہ فتاوی شارح بخاری۔میں ہے
امام کو اس کی اجازت نہیں کہ ظہر کی پہلے والی سنتیں پڑھے بغیر فرض پڑھائے ان سنتوں کو فرض سے پہلے پڑھنا ہی سنت مؤ کدہ ہے۔ جو امام ایسا کرتا ہے وہ سنت مؤ کدہ کا تارک ہے۔ واللہ تعالی اعلم
[حاشیہ: امام کوشش کرے کہ مسجد میں اتنا پہلے پہنچ جائے کہ سنتیں پڑھ کر وقت سے جماعت قائم کر سکے اور اگر کبھی دیر ہو جائے تو نمازیوں میں جو لائق امامت ہو اسے امامت کے لیے آگے بڑھا دے اور بعد میں سنت قبلیہ پڑھ لے۔ حدیث پاک میں ہے: ایک بار حضور سید عالم ﷺ قبیلہ عوف کے لوگوں میں صلح کرانے کے لیے تشریف لے گئے اور ادھرنماز کا وقت ہو گیا تو صحابہ نے حضرت عبد الرحمن رضی اللہ تعالی عنہ کو امامت کے لیے آگے بڑھا دیا سرکار تشریف لائے تو ایک رکعت نماز ہو چکی تھی آپ نے حضرت عبد الرحمن کی اقتدا میں نماز ٖپڑھی اور ان کے سلام کے بعد اپنی چھوٹی ہوئی رکعت پوری کی۔ جب امام کی اجازت کے بغیر وقت ہو جانے پر دوسرے کو امامت کے لیے آگے بڑھانا جائز ہے تو خود امام کو یہ اجازت بدرجہ اولی ہوگی۔ واللہ تعالی اعلم ،محمد نظام الدین رضوی] (فتاوی جامعہ اشرفیہ، جلد:۵(فتاوی شارح بخاری))
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب
كتبه/ محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال

0 تبصرے