Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

کیا زید اپنے پھوپھا کی دوسری بیوی کے لڑکا سے اپنی لڑکی کی شادی کرسکتا ہے؟

 (288)

کیازیداپنے پھوپھا کی دوسری بیوی کے لڑکاسے اپنی لڑکی کی شادی کرسکتا ہے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

السلام علیکم و رحمت اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسءلہ ذیل میں کہ زیدکی پھوپھی جمیلہ سے تین لڑکا اور دو لڑکی ہو ئ اسکے بعد انتقال کرگئ

پھر زید کا پھوپھابکرنے ہندہ سےنکاح کیا اور اسکے بطن سے دو لڑکا ہوا۔اب زید ہندہ کے لڑکا سے اپنی لڑکی کا نکاح کرنا چاہتا ہے

اب دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ زید اپنے پھوپھا کی دوسری بیوی کے لڑکا سے اپنی لڑکی کی شادی کرسکتا ہے؟

قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرماۓعین کرم ونوازش ہوگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

المستفتی مولانا محمد ساجد رضا افضل القادری آسوی ضیائ حنفی اکڈارا نیپال

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نحمده ونصلي علي رسوله الكريم 

وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته 

الجواب بعونه تعالي عز وجل 

مذکورہ صورت میں جمیلہ کی اولاد اور ہندہ کی اولاد آپس میں سوتیلے بھائی بہن ہیں ان سب کا نکاح اپس میں جائز نہیں کہ باپ سب کا ایک ہے ۔

بہار شریعت میں ہے 

بہن خواہ حقیقی ہو یعنی ایک ماں باپ سے یا سوتیلی کہ باپ دونوں کا ایک ہے اور مائیں دو یا ماں ایک ہے اور باپ دو سب حرام ہیں۔ (بہار شریعت 

ح ۷ ، ص ۲۳ مکتبہ المدینہ)

پر مسئلہ مسئولہ میں  زید اپنی اولاد کا نکاح ہھوپھا کی اولاد سے کر سکتے ہیں کہ یہ محرمات سے نہیں ہے۔ جبکہ حرمت کی کوئی اور وجہ مثلاً رضاعت وغیرہ نہ پائی جائے، کیونکہ قرآن عظیم میں جن عورتوں سے نکاح حرام قرار دیا گیا ہے ان کو واضح طور پر بیان کردیا گیا ہے

قرآن کریم میں ہے۔ و أُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَاءَ ذَلِكُمْ (النساء : ٢٤/٤)

ترجمہ اور ان کے سوا جو رہیں وہ تمہیں حلال ہیں۔ (کنز الايمان)

اور یہ اس لئے کہ جب پھوپھا کی بیٹی سے نکاح جائز ہے تو زید کی اولاد کا نکاح ہندہ کی اولاد سے بدرجہ اولی جائز یے۔ 

کہ یہ اور دور کا رشتہ ہے۔

چنانچہ علامہ ابراہیم بن محمد حلبی حنفى متوفى ٩٥٦ھ لکھتے ہیں:

يحرم على الرجل عمته وخالته

ملخضا.

ملتقى الأبحر مع شرحه مجمع الأنهر ١/٤٧٦)

یعنی مرد کو اپنی پھوپھی اور خالہ سے نکاح کرنا حرام ہے۔

اس کے تحت علامہ علاء الدین حصکفی حنفی

متوفی ۱۰۸۸ ھ لکھتے ہیں۔

 وأما بناتهما فحلال (الدر المنتقى في شرح الملتقى ١/٤٧٧)

یعنی خالہ اور پھوپھی کی بیٹیوں سے نکاح کرنا حلال ہے۔

حاصل کلام یہ ہے کہ 

مذکورہ نکاح جائز ہے 

فتاوٰی شامی میں ہے ۔

 تحل بنات العمات والاعمام والخالات والاخوال“

 یعنی پھوپھی، چچا، خالہ، ماموں کی بیٹیوں سے نکاح حلال ہے (ردالمحتار مع الدر المختار، کتاب النکاح، ج 04، ص 107، مطبوعہ کوئٹہ)

سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ سے سوال ہوا کہ”زید وعمر و حقیقی چچازاد بھائی ہیں اب عمرو کی دختر کے ساتھ نکاح کرناچاہتا ہے جائزہے یا نہیں؟“ آپ علیہ الرحمہ اس کے جواب میں فرماتے ہیں:اپنے حقیقی چچاکی بیٹی یا چچا زاد بھائی کی بیٹی یا غیر حقیقی دادا کی اگرچہ وہ حقیقی دادا کا بھائی ہو اور رشتے کی بہن جو ماں میں ایک نہ باپ میں شریک ، نہ باہم علاقہ رضاعت جیسے ماموں خالہ پھوپھی کی بیٹیاں ۔یہ سب عورتیں شرعاً حلال ہیں جبکہ کوئی مانع نکاح مثل رضاعت ومصاہرت قائم نہ ہو۔قال ﷲ تعالٰی"وَاُحِلَّ لَکُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُم"اللہ تعالٰی نے فرمایا: محرمات کے علاوہ عورتیں تمھارے لیے حلال ہیں۔(فتاوٰی رضویہ، ج11، ص413، رضافاؤنڈیشن، لاہور

واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

كتبه/ محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے