(53)
۔🌹(پہلی رکعت سے دوسری رکعت میں لمبی قرآت کی تو کیا حکم ہے؟)🌹۔
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
۔🌹🌹مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ اگر امام پہلی رکعت میں کم آیت پڑھ لے اور دوسری رکعت میں شک ہو کہ پہلی رکعت میں زیادہ پڑھا تھا اور دوسری رکعت میں پہلی رکعت سے زیادہ پڑھ لے پھر اس کو پتہ چلے کی پہلی رکعت میں کم پڑھا تھا اب اگر سجدہ سہو کر لیا تو کیا حکم ہے نماز ہوگی یا نہیں؟🌹🌹۔
(🎤المستفتيه : فاطمہ قادریہ رضویہ🎤)
🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملك الوہاب
سجدہ سہو کی ضرورت نہیں اس لئے کہ سجدہ سہو واجب کے چھوٹنے پر ہے اور یہاں ترک واجب نہیں فجر کی پہلی رکعت کو بہ نسبت دوسری کے دراز کرنا سنت ہے اور نمازوں میں پہلی کو بہ نسبت دوسری کے دراز کرنا بہتر ہے جیسا کہ حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ فجر کی پہلی رکعت کو بہ نسبت دوسری کے دراز کرنا مسنون ہے اور اس کی مقدار یہ رکھی گئی ہے کہ پہلی میں دو تہائی دوسری میں ایک تہائی۔
نیز فرماتے ہیں بہتر یہ ہے کہ اورنمازوں میں بھی پہلی رکعت کی قرآت دوسری سے قدرے زیادہ ہو، یہی حکم جمعہ و عیدین کا بھی ہے ۔
۔ (📗عالمگیری ج ، ا ص ۷۳ ، بہار شریعت حصہ سوم صفحہ ۹۲ مطبوعہ قادری کتاب گھر بریلی شریف )
دوسری رکعت کی قرآت پہلی سے طویل کرنا مکروہ (تنزیہی ) ہے جبکہ بین فرق معلوم ہوتا ہو اور اس کی مقدار یہ ہے کہ اگر دونوں سورتوں کی آیتیں برابر ہوں تو تین آیت کی زیادتی سے
کراہت ہے اور چھوٹی بڑی ہوں تو آیتوں کی تعداد کا اعتبار نہیں بلکہ حروف و کلمات کا اعتبار ہے۔
۔(📗بہار شریعت حصہ سوم صفحہ ۱۹/ ۱۹/ مطبوعہ قادری کتاب گھر بریلی شریف)
لہذا اگر امام نے سجدہ سہو کیا اور اس کی حاجت نہ تھی تو ( مسبوق ) یعنی جن مقتدیوں کی کچھ رکعت چھوٹی ہیں ان کی نماز نہ ہوئی جبکہ امام کا حال انہیں معلوم ہو، باقی سب کی ہوگئی ۔
جیسا کہ بہار شریعت حصہ سوم صفحہ (۱۲۶)
پر ہے کہ امام نے سجدہ سہو کیا مسبوق نے اس کی متابعت کی جیسا کہ اسے حکم ہے پھر معلوم ہوا کہ امام پر سجدہ سہو نہ تھا مسبوق کی نماز فاسد ہوگئی۔
۔(📗ماخوذازمسائل شرعیہ جلد دوم صفحہ ٣٧٢/٣٧١)
والله اعلم بالصواب
۔📝 محمد افروز احمد مجاہدی
اسی طرح اوربھی مسائل پڑھنےکےلئے اس لنک پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے