(52)
۔🌹( نمازجہری میں سری قرآت کرے تو کیا حکم ہے؟ )
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
۔🌹🌹مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص جہری نماز میں جان بوجھ کر سری قرأت کر دے یا سری نماز میں جان بوجھ کر جہری قرآت کر دے تو کیا حکم ہے؟🌹🌹۔
(🎤المستفتى : محمد ادریس رضا🎤)
🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملک الوہاب
سری نمازوں میں آہستہ اور جہری نمازوں میں بلند آواز میں قرآت کرنا واجب ہے اس لئے نماز نہ ہوئی یعنی سجدہ سہو سے بھی کام نہ چلے گا، ہاں اگر سہوا ایسا ہوا ہوتا تو سجدہ سہو سے نماز ہو جاتی ۔
فتاوی شرعیہ میں ہے : سری نماز میں اگر سہوا جہر سے قرات کی تو سجدہ سہو لازم ہوگا، اسی طرح جہری نماز میں قرآت بالسر کرنے پر سجدہ سہو واجب اور اگر بلا عذر شرعی قصدا ایسا کیا تو نماز صحیح نہ ہوگی بلکہ واجب الاعادہ ہوگی۔
ردالمختار میں ہے۔
۔{الاسرار يجب على الامام والمنفرد فيما يسر فيه وهو صلاة الظهر والعصر والثالثة من المغرب وصلوة الكسوف والاستسقاء} "
سری نمازوں میں امام اور منفرد پر قرآت بالسر واجب ہے اور وہ نماز ظہر،عصرمغرب کی تیسری رکعت اورنماز کسوف واستسقاء سری نمازیں ہیں۔
در مختار میں ہے : {تجب سجدتان بترك واجب سهوا كالجهر فيما يخافت فيه و عکسہ}
سہوا ترک واجب سے سہو کے دو سجدے واجب ہوتے ہیں جیسے جہری نماز میں قرآت بالجہر فوت ہو جائے یا اس کے برعکس یعنی سری نماز میں قرات بالجہر کرنا۔
عالمگیری و بحر الرائق میں ہے.
۔ {لايجب السجودفى العمد وانما يجب الاعادة جبرالنقصانه}
قصدا ترك واجب سے سجدہ سہو واجب نہیں ہو گا بلکہ نماز کا اعادہ واجب ہو گا۔
۔(📗فتاوی شرعیہ جلد اول صفحہ ۳۲۲)
لہذا مذکورہ بالا حوالاجات سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی سری نمازں میں قصدا جہری قرآت کرے یا جہری نمازوں میں قصد ا قرآت بالسر کرے تو نمازواجب الاعادہ ہوگئی سجدے سے کام نہیں چلے گا اس لئے کہ سجدہ اس وقت کیا جائے گا جب کہ سہوا ہوا ہو اور یہاں سہوا نہیں بلکہ قصداکیاگیا ہے
۔(📗ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلد دوم صفحہ٣٦۵)
واللہ اعلم بالصواب
۔📝 محمد افروز احمد مجاہدی
اسی طرح اوربھی مسائل پڑھنےکےلئے اس لنک پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے