(57)
۔🌹(نمازمیں ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا کہاں سے ثابت ہے؟)🌹۔
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
۔🌹🌹مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ نماز میں عورت کا سینہ پر اور مرد کا ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا کہاں سے ثابت ہے؟ جواب عنایت فرمائیں🌹🌹۔
۔ (🎤المستفتی: محمد سلمان بیگ نقشبندی مجددی مشاہدی امام نقشبندی جامع مسجد سہاڑہ کھنڈ وہ ایم پی انڈیا🎤)
🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملک الوہاب
علمائے احناف کے نزدیک حکم یہ ہے کہ خواتین نماز میں سینے پر ہاتھ باندھیں، اس مسئلہ پر ہمارے ائمہ کا اتفاق ہے۔ علمائے جم غفیر نے یہ بات اپنی اپنی کتب میں بغیر اختلاف نقل کی ہے، چنانچہ علامہ محمد بن محمد المعروف ابن امیر الحاج حبیبی رحمہ اللہ تعالی نے منیہ کی شرح میں فرمایا، تیسر ا مقام ہاتھ رکھنے کے بارے میں ہے ہمارے علماء نے فرمایا ہے کہ مرد ناف کے نیچے اور عورت سینہ پر ہاتھ باندھے اور یہ بھی فرمایا کہ عورت اپنے دونوں ہاتھ سینہ پر رکھے جیسا کہ جم غفیر نے تصریح کی ہے ۔
۔(📗فتاوی رضویہ مترجم جلد 6 صفحہ 144 )
محقق حلبی نے حلیہ میں فرمایا ہم نے جو یہ کہا کہ عورت اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پراپنے سینے پر باندھے یہ اس لئے کہ عورت کے لئے اس میں زیادہ ستر ہے لہذا یہ اس کے حق میں اولی ہے۔
۔(📗فتاوی رضویہ مترجم جلد 6 صفحہ 145)
ترمذی نے سند حسن کے ساتھ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا عورت تمام کی تمام قابل ستر و حجاب ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ عورتوں کے حق میں سینے پر ہاتھ باندھنا زیر ناف باندھنے سے زیادہ حجاب اور حیا کے قریب ہے ۔
۔ (📗فتاوی رضویہ مترجم جلد 6 صفحہ 146)
۔(📗ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلد دوم صفحہ /٣٠٠))
والله اعلم بالصواب
۔📝 کتب محمدافروز احمد مجاہدی
اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے