Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

نماز کے بعد لا الہ الا انت سبحنک الخ پڑھ کر دعا مانگنا کیسا ہے ؟

 (56)



۔🌹(نماز کے بعد لا الہ الا انت سبحٰنک الخ پڑھ کر دعا مانگناکیساہ )🌹۔


السلام علیکم ورحمۃ اللہ تعالی وبرکاتہ 

۔🌹🌹مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ نماز کے بعد لا الہ الا انت سبحٰنک انی کنت من الظالمین پڑھ کر دعا مانگنا کیسا ہے؟ بینوا تو جروا🌹🌹۔ 


(🎤المستفتی :- ظہیر الدین بنارس🎤 )


وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ تعالی وبرکاتہ 

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

الجواب بعون الملک الوہاب 

حضرت علامہ امام فخر الدین رازی علیہ رحمة و رضوان نے اس ایت کریمہ کو بطور دعا پڑھنے اور پیچھے مقتدیوں کے امین کہنے کو منع فرمایا ہے تفسیر کبیر جلد ہشتم کے حوالے سے فتاوی فقیہ ملت میں ہےکہ اس ایت کریمہ کو بطور دعا پڑھنا اور پیچھے مقتدیوں کوآمین کہنا جائز نہیں البتہ اگر کوئی شخص کسی پریشانی یا مصیبت میں مبتلا ہو تو اس ایت کریمہ کو بطور وظیفہ پڑھ کر اللہ تعالٰی سے دعا کرے تو اللہ تعالی اس کی دعا قبول فرماتا ہے    

(فتاوی فقیہ ملت جلد اول باب صفة الصلاة صفحہ١٠٧📗)

 کیونکہ ،، لا الہ الا انت سبحٰنک انی کنت من الظالمین کا لفظی ترجمہ ہوتا ہے نہیں کوئی معبود مگر تو پاک ہے بے شک میں ظلم کرنے والوں میں سے ہوں، یعنی امام اپنے کو ظالم کہے اور مقتدی اس پر امین کہے یہ جائز نہیں یونہی مجمع میں اس دعا کو نہ مانگا جائے اگرچہ نماز کے بعد نہ ہو البتہ تنہائی میں کوئی پڑھنا چاہے تو پڑھ سکتا ہے

    واللہ تعالی عالم بالثواب 

نوٹ :یہ سیدنا یونس علیہ السلام نے اپنے رب سے عرض کیا تھا لہذا انبیاء کرام علیہم السلام کے لیے ظلم کا لفظ استعمال کرنا جائز نہیں ہے بلکہ اس کا ترجمہ وہی درست ہے جو سرکار اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ نے کیا ہے یعنی کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بے شک مجھ سے بے جا ہوا (کنز الایمان)

(ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلد دوم صفحہ٢٨٦📗)


محمد افروز احمد مجاہدی 📝   

   اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں 

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے