Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

جمعہ کی اذان ممبر سے ایک ہاتھ کی دوری پر دینا کیسا ہے؟

 (55)



۔🌹( جمعہ کی اذان ممبر سے ایک ہاتھ کی دوری پر دینا کیسا ہے؟)🌹۔


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

۔🌹🌹مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ جمع کی اذان ممبر سے ایک ہاتھ کی دوری پر دینا کیسا ?ہے؟ مع حوالہ جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع دیں۔🌹🌹 

(🎤المستفتی: محمد توصیف رضا 🎤)


🔷🔶🔷🔶🔷🔶🔷🔶🔷🔶🔷

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته 

بسم الله الرحمن الرحيم 

الجواب بعون الملک الوہاب

چاہے اذان خطبئہ جمعہ ہو یا اذان فجر و ظہر وغیرہ داخل مسجد ( مسجد کے اندر ) دینا مکروہ ہے جیسا کہ حدیث میں ہے 

۔{عن السائب بن یزید رضی الله عنه قال كان يؤذن بين. یدی رسول الله ﷺ اذا جلس على المنبريوم الجمعة على باب المسجد وابي بكر و عمر رضی اللہ عنہما}

 حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم  جمعہ کے دن ممبر پر تشریف رکھتے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مسجد کے دروازے پر اذان ہوتی اور ایسا ہی حضرت ابو بکر صدیق اورحضرت عمرفاروق اعظم کےزمانےمیں بھی ہوتا تھا۔

۔ (📗سنن ابوداؤد شریف ج اول ص /۱۵۵)


فقہائے کرام نے مسجد میں اذان کہنے کو مکروہ فرمایا ہے جیسا کہ فتاوی قاضی خان جلد اول صفحه ۷۸ /و دیگر کتب اکابرین میں اذان کو مسجد کے اندر مکروہ کہا گیا ہے اسی طریقے سے فتاوی خانیہ میں ہے ( ینبغی ان يؤذن على المئذنة او خارج المسجد ولا يوذن في المسجد) 

اذان مینارے پر یا مسجد کے باہر ہونی چاہئے مسجد کے اندر اذان نہ کہی جائے طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے 

(یکرہ ان یؤذن فی المسجد) یعنی مسجد میں اذان دینا مکروہ ہے مذکو رہے ۔

حدیث مبارکہ و دلائل ائمہ سے واضح ہے کہ اذان مسجد کے اندر دینا مکروہ ہے رہی بات بد مذہبوں کی جو کہ داخل مسجد اذان پڑھتے ہیں تو اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں اس لیے کہ خدا جب دین لیتا ہے تو عقلیں چھین لیتا ہے یہ وہ گرا کن و جہنمی فرقہ ہے جن کے لئے قرآن میں فرمایا گیا 

۔{خَتَمَ اللهُ عَلٰى قُلُوبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْ وَعَلٰى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عٙظِیْم}

 اللہ نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر مہر کر دی اور ان کی آنکھوں پر گھٹا ٹوپ ہے اور ان کے لئے بڑا عذاب 


۔(📗سورہ بقرہ آیت ٧ /کنز الایمان ) 


۔(📗ماخوذازفتاویٰ مسائل شرعیہ جلد دوم صفحہ ٢۵۴/٢۵٣)


واللہ تعالیٰ اعلم


۔📝 کتب محمد افروز احمد مجاہدی


اسی طرح اوربھی مسائل پڑھنےکےلئے اس لنک پر کلک کریں

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com



ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے