(82)
(آنکھ بند کر کے نماز پڑھنا کیسا ہے؟)
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مسئلہ : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ دوران نماز کچھ لوگ اپنی آنکھیں بند کر کے نماز پڑھتے ہیں۔ اس بارے میں کیا حکم شرع ہے؟ آج کل عموماً دیکھا جاتا ہے کہ ہمارے نو جوان حضرات باتھ روم میں جا کر نشہ آور چیز استعمال کرتے ہیں۔ جیسے سگریٹ ، تمباکو ، پان وغیرہ وغیرہ ان سب چیزوں کا استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح کی چیز باتھ روم میں جا کر استعمال کرنا ہے کیسا ؟ اس بارے میں کیا حکم شرع ہے؟مع حوالہ جواب عنایت کریں۔
المستفتی : - احقرایم- کے - رضا صدیقی متعلم الجامعة الاسمعيليہ مسولی شریف، بارہ بنکی
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں بلا وجہ دوران نماز آنکھیں بند کرنا مکروہ تنزیہی ہے یعنی گناہ تو نہیں ہےمگر بچنا اولی ہے اور اگر خشوع و خضوع کی بنیاد پر بند کرتا ہے کہ آنکھیں نہیں بند کرتا ہے تو خشوع کے و خضوع نہیں ہوتا ہے تب آنکھیں بند کر کے پڑھنا افضل ہے جیسا کہ حضور صدر الشریعہ علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمة والرضوان نے ارشاد فرمایا نماز میں آنکھیں بند رکھنا مکروہ ہے مگر کھلی رہنے میں خشوع نہ ہوتا ہو تو بند کرنے میں حرج نہیں بلکہ بہتر ہے ۔
(بہار شریعت حصہ سوم )
سرکار اعلیٰ حضرت عظیم البرکت امام احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں بعض مکروہات سے کراہت زائل ہو جاتی ہے، جیسے نماز میں آنکھیں بند کرنا مکروہ ہے اور خشوع یونہی ملتا ہے تو آنکھیں بند کرنا ہی اولی ہے
کمافی الدر المختار کره تغميض عينيه للنهى الالكمال الخشوع، وفى رد المحتار بان خاف فوت الخشوع بسبب رؤية ما يفرق الخاطر فلا يكره بل قال بعض العلماء انه الاولى وليس ببعيد حلية وبحر اھ - اقول ولعل التحقيق ان بخشية فوات الخشوع تزول الكراهة وبتحققه يحصل الاستحباب
اور در مختار میں ہے: نماز میں آنکھیں بند کرنا مکروہ ہے کیونکہ اس بارے میں ممانعت آئی ہے لیکن اگر کمال خشوع کے لئے ہو تو مکروہ نہیں ۔
رد المحتار میں ہے: اس طرح طبیعت کو منتشر کرنے والی چیزیں دیکھنے کے سبب خشوع فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو مکروہ نہیں بلکہ بعض علماء نے فرمایا کہ اولی ہے، اور یہ کوئی بعید نہیں حلیہ و بحر اھ اقول شاید تحقیق یہ ہے کہ خشوع فوت ہونے ۔ کے اندیشہ کی وجہ سے کراہت زائل ہو جاتی ہے اور آنکھ بند کر لینے پر خشوع متحقق ہو جانے سے استحباب حاصل ہو جاتا ہے۔ اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے
۔(در مختار باب ما یفسد الصلوة مطبوعہ مجتبائی دہلی ا/ ۹۲ /رد المحتار باب ما یفسد الصلوةادارة الطباعۃ المصريۃ مصر ا/ ۴۳۴ /فتاوی رضویہ شریف جدید جلد نهم صفحہ ۲۱)
بیت الخلاء میں کھانا پینا منع و مکروہ تنزیہی ہے اور جب ان چیزوں کا استعمال بیت الخلاء میں کرے گا تو تھوکے گا بھی اور بیت الخلاء میں تھوکنا منع ہےاوراس سے ؛نسیان کی بیماری ہوتی ہے تو اولی یہی کہ ان کاموں کو ایسی جگہ کرنے سے بچے ۔
۔(ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلداسوم صفحہ ١٣٠/١٢٩)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
كتبہ محمد افروز احمد مجاہدی
اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے