Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

سود خور کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟

 (83)


۔( سودخورکےپیچھےنماز پڑھناکیسا ہے؟)


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ اگر امام کی غیر موجودگی میں سود خور امامت کر دے تو سود خور کی امامت کا شریعت میں کیا حکم ہے؟ حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں

المستفتي : محمد محشر رضا

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

بسم الله الرحمن الرحيم

الجواب بعون الملک الوہاب هو الهادي الى الصواب

سود خور کی اقتدا میں نماز پڑھنا جائز نہیں جب کہ علانیہ سود لیتا ہو۔ سود خور کے پیچھے پڑھی گئی نماز مکروہ تحریمی ہے یعنی ایسی نماز کو دوبارہ پڑھیں کیوں کی سود کھانے والا فاسق معلن ہے اور فاسق معلن کی اقتداء اسکی تعظیم ہے اور فاسق کی تعظیم گناہ ہے

 کما قال امام المحققين سيدي محمد امين الشهير ابن عابدين الشامي لو قدموا فأسقا يا ثمون لان في تقديمه تعظيمه وقد وجب عليهم اهانته شرعاً " یعنی جن لوگوں نے فاسق کو آگے کیا وہ گنہگار ہوئے کیوں کہ اسکی تقدیم میں اسکی تعظیم ہے باوجود اس کے کہ عند الشرع اس کی اہانت واجب ہے۔

فتاوی فیض الرسول میں ہے سود لینا دینا دونوں حرام ہیں حدیث شریف میں ہے الآخذ والمعطى فيه سواء “ یعنی سود لینے والا اور دینے والا دونوں گناہ میں برابر ہیں ۔ (رواہ مسلم و مشکوة )

اور سود کا گناہ ایسا ہے جیسے معاذ اللہ کوئی اپنی ماں سے زنا کرے چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں الربو سبعون جزأ ايسرها ان ينكح الرجل امه “ یعنی سود کے گناہ کے ستر درجے ہیں سب میں ہلکا درجہ یہ ہے کہ انسان اپنی ماں سے زنا کرے ۔

۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان مشکو تشریف /فتاوی فیض الرسول جلد اول صفحہ ٣١٣)

لہذا سود لینے اور دینے والے کے پیچھے نماز جائز نہیں ایسے کو امام بنانا گناہ ہے ۔ فتاوی فقیہ ملت میں ہے اگر کوئی دوسرا امامت کے قابل نہ ہو تو مقتدی تنہا تنہا نماز پڑھیں مگر فاسق معلن کو امام نہ بنائیں ۔ 

(فتاوی فقیه ملت بلد اول صفحہ ۱۲۸) 

(ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلددوم صفحہ٤١١) 

والله اعلم بالصواب

کتبہ محمد افروز احمد مجاہدی

اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں 

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے