Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

ٹھنڈی والی ٹوپی موڑ کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟

 (84)


(ٹھنڈی والی ٹوپی موڑ کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟)

 السلام عليكم ورحمة اللہ وبرکاتہ 

مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ جاڑے کے موسم میں ٹھنڈی والی ٹوپی بازاروں میں ملتی ہے اس کو موڑ کر نماز پڑھ سکتے ہیں یا نہیں آیا کہ نماز ہوگی یا نہیں؟ جواب عنایت فرمائیں 

المستفتى : فضل الرحمن

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

بسم الله الرحمن الرحيم

الجواب بعون الملک الوہاب

جاڑے کے موسم میں جوبازاروں میں ٹوپی ملتی ہے اس کو موڑ کر نماز پڑھنا درست ہے۔ کیونکہ یہ کف ثوب نہیں ہے اس لئےاس سے نماز ہو جائے گی۔

فتاوی مرکز تر بیت افتاء میں ہے : جاڑے کے موسم میں اونی ٹوپی موڑ کر پہننے کا جو رواج ہے وہ شر عاکف ثوب نہیں کیونکہ فقہاء کی اصطلاح میں کف ثوب یہ ہے کہ عادت کے خلاف کپڑے کو موڑ کر استعمال کیا جائے اور یہاں ایسا نہیں یہ ٹوپی عام طور پر موڑ کر ہی استعمال کی جاتی ہے بلکہ بہت سی ٹوپیاں موڑ کر ہی پہنی جاتی ہیں تو یہ موڑ نا عادت کے موافق ہے اس لئے یہ جائز ہے اور اس کی وجہ سے نماز میں ذرہ برابر بھی کراہت نہ آئے گی۔

اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں کسی کپڑے کو ایسا خلاف عادت پہننا جسے مہذب آدمی مجمع یا بازار میں نہ کر سکے اور کرے تو بے ادب خفیف الحرکات سمجھا جائے یہ بھی مکروہ ہے کرہ کفه ای رفعه ولو لتراب كمشمر كم او ذيل.

(فتاوی رضویہ، جلد ۲ صفحه ۴۰۶)

فتاوی ہندیہ میں ہے " يكره للمصلى ان يكف ثوبه بأن يرفع ثوبه من بين يديه او من خلفه اذا اراد السجود كذا في معراج الدراية »

 ( فتاوی عالمگیری جلد اول صفحه۱۰۵۔

بحواله فتاوی مرکز تر بیت افتاء جلد اول صفحہ ۲۴۱)۔ 

(ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلدسوم صفحہ ١٣٢)


والله اعلم بالصواب

کتبہ محمد افروز احمد مجاہدی

اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں 

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے