(90)
(عشر كا شرعى حكم کیا ہے)
السلام علیکم ورحمۃ اللہ تعالی وبرکاتہ
سوال کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین کہ۔۔ عشر میں فصلوں کی زکوۃ کیسے نکالی جائے یا فصلوں کی فروخت کی گئی رقم کی زکوۃ کیسے نکالی جائے اسکا طریقہ عنایت فرمادیں
سائل محمد احسان عالم - نوادہ بہار
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ تعالی وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوہاب
فقیه اعظم هند حضور صدر الشريعه عليه الرحمه تحریر فرماتے ہیں
جو کھیت بارش یا نہر یا نالے کے پانی سے سیراب کیا جائے اس میں عشر یعنی پیداوار کا دسواں حصہ واجب ہے اورجس کھیت کی آب پاشی چر ( چمڑے کا بڑا ڈول ) سے یا ڈول سے ہو اس میں نصف عشر یعنی پیداوار کا بیسواں حصہ واجب ہے اور اگر کھیت کچھ دنوں مینہ ( بارش ) کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے اور کچھ دن ڈول یا چر سے تو اگر زیادہ مینہ کے پانی سے کام لیا جاتا ہے اور کبھی کبھی ڈول چرسے تو عشر واجب ہے ورنہ نصف عشر
۔(بہار شریعت جلد ا حصہ ۵ صفحہ ۹۱۷ ، عشر کا بیان، مكتبۃ المدينہ)
جس چیز میں عشر یا نصف عشر واجب ہوا اس میں کل پیداوار کا عشر یا نصف عشر لیا جائے گا یہ نہیں ہو سکتا کہ مصارف زراعت، ہل، بیل، حفاظت کرنے والے اور کام کرنے والوں کی اجرت یا بیج وغیرہ نکال کر باقی کا عشر یا نصف عشر دیا جائے
۔(بہار شریعت جلد ا حصہ ۵ صفحه ۹۱۸ عشر کا بیان، مكتبۃ المدينہ)
عشر کن لوگوں کو دیا جائے اس کے لینے والے کون ہیں اس کے متعلق
تاجدار اهلسنت حضور اعلی حضرت فاضل بریلوی رضی الله عنه تحریر فرماتے ہیں کہ ،،
تمام مصالح عامہ مسلمین ہیں جن میں تعمیر مساجد، وظیفہ امام و موذن ۔ و بنائے پل و سر او تنخواہ مدرسین علم دین، وخبر گیری طلبہ علوم دین ، و خدمت علمائے حق ، حامیان دین، مشغولین درس و واعظین وافتاء وغیرہا امور دین سب داخل ہیں
(فتاوی رضویہ مترجم جلد١٠صفحہ۲۲۳)
(ماخوذازضیاء شریعت جلداول صفحہ ٢١٤)
والله تعالى اعلم بالصواب
كتبہ محمد افروز احمد مجاہدی
اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے