(94)
انبياء وملائكہ کے سوا دوسرے کے نام کے ساتھ عليہ السلام بولنا كيسا؟
سوال کا کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین کہ۔۔ زید کہتا ہے کہ حضرت امام حسین واہل بیت اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لئے علیہ السلام لکھنا اور بولنا جائز ہے کہ محدثین نے ان کے لئے اس لفظ کا استعمال کیا ہے بکر کہتا ہے کہ غیر انبیاء ورسل کے لئے اس لفظ کا استعمال جائز نہیں کہ جمہور فقہا نے ایسا کوئی حکم بیان نہیں فرمایا ہے۔ رہی بات محدثین کی تو ان کا کام فقط نقل حدیث ہے حکم بیان کرنا نہیں حکم بیان کرنا فقہا کا کام ہے اور رہا ان کا اپنا فعل تو وہ ہم پر حجت نہیں اس مسئلہ میں کون حق پر ہے اور کون نہیں اور مفتی بہ قول کیا ہے
سائل - محمد عبد المجید خان رضوی مصباحی
الجواب بعون الملک الوہاب
انبیاء اور فرشتوں کے نام کے علاوہ دوسرے لوگوں کے نام کے ساتھ علیہ السلام بول سکتے ہیں یا نہیں اس کے متعلق بحر العلوم حضور مفتی عبد المنان صاحب قبلہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ ،، اس کے اطلاق کے حکم میں اختلاف ہے امام نوری نے مکروہ تحریمی بتایا ہے اور ملا علی قاری کے اشاروں سے خلاف اولی معلوم ہوتا ہے اس لئے اس قسم کے مسائل میں کسی قسم کی آرائی بے سود بلکہ باعث فتنہ ہے جس سے رافضیوں یا خارجیوں کو تو کچھ فائدہ پہنچ سکتا ہے اہل سنت و جماعت کو نہیں
(فتاوی بحر العلوم جلد ۵صفحہ٣١١)
نیز تحریر فرماتے ہیں کہ ، در کتب قدیمہ از مشائخ اہل سنت و جماعت کتابت آن متروک است ۔ ترجمہ۔ مشائخ اہل سنت و جماعت کی کتب قدیمہ میں اس کی کتابت پائی جاتی ہے اور متاخرین کی کتابوں میں اس کی کتابت متروک ہے
(فتاوی بحر العلوم جلد ۵ صفحہ ۳۱۴)
فقیہ اعظم ہند حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ کسی کے نام کے ساتھ علیہ السلام کہنا یہ انبیاء و ملائکہ علیہم السلام کے ساتھ خاص ہےمثلاًموسی علیہ السلام جبرائیل علیہ السلام نبی اور فرشہ کے سواکسی دوسرے کے نام کے ساتھ یوں نہ کہا جائے
بہار شریعت جلد ۳ حصہ ۱۶ ، صفحه ۴۶۵
(ماخوذازضیاء شریعت جلداول صفحہ ٢٢٢)
والله تعالى اعلم بالصواب
كتبہ محمد افروز احمد مجاہدی
اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے