(95)
کیا چھوٹے بچے کی قے(الٹی) پاک ہے؟
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مسئلہ : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ چھوٹا بچہ جس کی عمر تقریبا پانچ مہینے کی ہے بار بار قے( الٹی) کرتا رہتا ہے۔ اگر کپڑے وغیرہ پر لگ جائے تو کیا حکم ہے؟ دھونا ضروری ہے۔ یا نہیں؟ اور اگر بغیر دھوئے نماز پڑھ لی تو کیا حکم ہے؟
المستفتي : - سيد عبد السميع
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملک الوھاب
دودھ پیتے بچے جو قے (الٹی) کرتے ہیں اگر وہ منہ بھر نہ ہو تو نجس نہیں ہے اور اگر منھ بھر ہے تو بلا شبہ وہ نجس ہے۔ جیسا کہ حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی اپنی کتاب بے مثال میں تحریر فرماتے ہیں شیر خوار بچے نے دودھ ڈال دیا اگر منھ بھر ہے تو نجاست غلیظہ ہے۔
۔(بہار شریعت مطبوعہ دعوت اسلامی، جلد ا/حصہ دوم صفحه ۳۹۰)
اور علامہ حصکفی فرماتے ہیں: ینقضه قیئ ملافاه من مرة او علق او طعام اور ماء اذا وصل الى معدته وان لم يستقر وهو نجس مغلظ ولو من صبى ساعة ارتضاعه وهو الصحيح لمخالطة النجاسة ذكره الحلبي .(ملخصاً)
(درمختار،جلد ا نواقض وضوکا بیان )
مذکورہ حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ بچہ نے قے کی اور وہ منہ بھر نہیں ہے تو وہ نجس نہیں ۔ لہذا اگر کپڑے یا بدن میں لگ جائے تو ناپاک نہیں ہو گا۔ اور اگر منہ بھر ہے تو چونکہ وہ مغلظ ہے اس لئے اگر کپڑے یا بدن میں ایک درہم سے زیادہ لگ گیا، تو اس کا پاک کرنافرض ہے بےپاک کئے نماز پڑھی تو نماز نہ ہوئی اور اگر ایک درہم کے برابر لگا تو پاک کرنا واجب ہے کہ بےپاک کئےنماز پڑھی تو نمازمکروہ تحریمی واجبالاعادہ ہوئی اور اگر ایک درہم سے کم لگے تو پاک کرنا مستحب ہے۔ (عامہ کتب فقہ )
نوٹ:۔ واضح رہے کہ بچے کی وہ قے ناپاک ہے جو معدے سے آئے اور منہ بھر کر ہو ۔ اور اگردودھ وغیرہ پینےکےبعدصرف منہ سے بہہ جائے تو وہ ناپاک نہیں ہے
(ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلددوم صفحہ١١٢)
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد افروز احمد مجاہدی
اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے