نماز فجر و عصر کے بعد سجدۂ تلاوت کرنا کیسا ہے ؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام مسئلہ ہذا کے بارے میں کہ رمضان المبارک میں مساجد میں فجر کی نماز جلدی پڑھا دی جاتی ہے اسکے بعد کچھ لوگ تلاوتِ قرآن کریم کرتے ہیں اس دوران سجدۂ تلاوت کرنے کا شرعی حکم کیا ہوگا ؟ جب کہ سورج طلوع نہیں ہوا ہے اور مسجد کے گھڑیال کے مطابق بھی ابھی ممنوع وقت شروع نہیں ہوا ۔
دوسرا کیا عصر نماز کے فرض کے ادائیگی کے بعد سجدہ تلاوت کر سکتے ہیں ؟ قرآن وحدیث سے رہنمائی فرمائیں ۔ جزاکم اللّٰہ خیراً کثیرا
*سائل :- سید عبداللہ شاہ ، سندھ پاکستان*
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــوعلیکم السلام ورحمة الله و بركاتہ
الجوابــــــــ بعـــون الملکــــــ الوھابــــــــــ
فجر کی نماز کے بعد آفتاب طلوع ہونے تک سجدۂ تلاوت کرسکتے ہیں اور اسی طرح عصر کی نماز کے بعد آفتاب کے غروب ہونے سے ۲۰ منٹ پہلے تک بھی سجدۂ تلاوت کرسکتے ہے اور ان اوقات میں قرآن مجید کی تلاوت بھی کرسکتے ہیں البتہ غروبِ آفتاب اور طلوع آفتاب میں یہ تفصیل ہے کہ اگر آیتِ سجدہ اسی بیس منٹ میں پڑھی تو اس وقت بھی سجدہ کرنا جائز ہے لیکن افضل یہ ہے کہ کسی غیر مکروہ وقت میں سجدہ کرے اور اگر آیتِ سجدہ غروبِ آفتاب اور طلوع آفتاب کے علاوہ کسی اور غیر مکروہ وقت میں پڑھی تو اس کا سجدہ اب اس مکروہ وقت میں کرنا مکروہ تحریمی ناجائز و گناہ ہے
وَكُرِهَ نَفْلٌ (بَعْدَ صَلَاةِ فَجْرٍ وَ) صَلَاةِ (عَصْرٍ) --- (لَا) يُكْرَهُ (قَضَاءُ فَائِتَةٍ وَ) (سَجْدَةَ تِلَاوَةٍ وَصَلَاةَ جِنَازَةٍ)
نفل نماز فجر اور نماز عصر کے بعد مکروہ ہے اور فوت شدہ نمازوں کی قضا کرنا اور سجدۂ تلاوت کرنا مکروہ نہیں نماز فجر اور عصر کے بعد ۔
(در مختار شرح تنویر الابصار / کتاب الصلاۃ / صفحہ ٥٤ / دار الکتب العلمیہ بیروت)
علامہ شامی وَكُرِهَ نَفْلٌ کے تحت فرماتے ہیں
وَالْكَرَاهَةُ هُنَا تَحْرِيمِيَّةٌ أَيْضًا كَمَا صُرِّحَ بِهِ فِي الْحِلْيَةِ وَلِذَا عُبِّرَ فِي الْخَانِيَّةِ وَالْخُلَاصَةِ بِعَدَمِ الْجَوَازِ وَالْمُرَادُ عَدَمُ الْحِلِّ لَا عَدَمُ الصِّحَّةِ كَمَا لَا يَخْفَى
اور کراہت یہاں بھی تحریمی ہے جیسا کہ اس کی حلیہ نے صراحت کی ہے اور اسی وجہ سے خانیہ میں اور خلاصہ میں عدم جواز کے ساتھ تعبیر کیا ہے اور مراد عدمِ حل ہے نہ کہ عدمِ صحت جیسا کہ مخفی نہیں ۔(رد المحتار علی الدر المختار / الجزء الاول / کتاب الصلاۃ / صفحہ ٣٧٤ / دار الفکر بیروت)
کنز الدقائق میں ہے
وَمُنِعَ عَنْ سَجْدَةِ التِّلَاوَةِ وَصَلَاةِ الْجِنَازَةِ عِنْدَ الطُّلُوعِ وَالِاسْتِوَاءِ وَالْغُرُوبِ
سجدۂ تلاوت سے منع کیا گیا ہے طلوع آفتاب کے وقت استواء کے وقت اور غروبِ آفتاب کے وقت ۔
(کنز الدقائق / کتاب الصلاۃ / صفحہ ١٥٥ / دار البشائر الاسلامیہ)
اس کے تحت تبیین الحقائق میں ہے
وَالْمُرَادُ بِسَجْدَةِ التِّلَاوَةِ مَا تَلَاهَا قَبْلَ هَذِهِ الْأَوْقَاتِ لِأَنَّهَا وَجَبَتْ كَامِلَةً فَلَا تَتَأَدَّى بِالنَّاقِصِ وَأَمَّا إذَا تَلَاهَا فِيهَا جَازَ أَدَاؤُهَا فِيهَا مِنْ غَيْرِ كَرَاهَةٍ لَكِنَّ الْأَفْضَلَ تَأْخِيرُهَا لِيُؤَدِّيَهَا فِي الْوَقْتِ الْمُسْتَحَبِّ
سجدۂ تلاوت سے مراد یہ ہے کہ جس کو ان مکروہ اوقات سے پہلے پڑھا ہو تو سجدۂ تلاوت منع ہے ، کیونکہ سجدۂ تلاوت کامل طور پر واجب ہوا ہے تو ناقص طور پر ادا نہیں ہوسکتا اور جب آیتِ سجدہ ان اوقات میں پڑھی تو اس کا سجدہ ان اوقات میں کرنا بلا کراہت جائز ہے لیکن افضل سجدۂ تلاوت کو موخر کرنا ہے تاکہ وقت مستحب میں اس کو ادا کیا جائے ۔
(تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق / الجزء الاول / مواقیت الصلاۃ - الاوقات التی یکرہ فیھا الصلاۃ / صفحہ ٨٥ / دار الکتاب الاسلامی)
سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ سے سوال ہوا کہ نماز عصر اور فجر کے بعد سجدہ کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ آپ علیہ الرحمہ نے جواباً ارشاد فرمایا
جائز ہے مگر جب عصر میں وقتِ کراہت آجائے تو قضا بھی جائز نہیں اور سجدہ مکروہ اگرچہ سہو یا تلاوت کا ہو اور سجدہ شکر تو بعد نمازِ فجر وعصر مطلقًا مکروہ ۔
(فتاوی رضویہ / جلد ٥ / صفحہ ٣٣٧ / رضا فاؤنڈیشن لاہور)
بہار شریعت میں ہے
ان اوقات میں آیت سجدہ پڑھی تو بہتر یہ ہے کہ سجدہ میں تاخیر کرے یہاں تک کہ وقتِ کراہت جاتا رہے اور اگر وقت مکروہ ہی میں کر لیا تو بھی جائز ہے اور اگر وقتِ غیر مکروہ میں پڑھی تھی تو وقتِ مکروہ میں سجدہ کرنا مکروہ تحریمی ہے ۔(بہار شریعت / جلد اول / حصہ سوم / صفحہ ٤٥٨ / تخریج شدہ)
والـلــه و رسولـــه اعلم بالصوابــــــــــ
0 تبصرے