(212)
۔3 تولہ سونےکی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی سےزیادہ ہے توسونےمیں زکات کیوں نہیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماۓ کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ تین تولہ سونہ کی قیمت 2,40000
52 تولہ چاندی کی 46800
اتنا چاندی یا رقم ہو تو اس پر زکوٰۃ فرض ہے
جبکہ سونا کی قیمت چاندی سے کئ گنا زیادہ ہے لیکن اس پر زکوٰۃ نہیں
لہذا شریعت کی روشنی میں اس کا جواب عنایت فرمائے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سائل محمد اعظم ممبئ مہاراشہ انڈیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نحمده ونصلي علي رسوله الكريم
وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته
الجواب بعونه تعالي عز وجل
صرف سونے اور چاندی کے جو نصاب ہے یہ شرعی حکم ہے اس میں کیوں اور کیسے کہنے کی گنجائش نہیں ہے۔
آدمی کے پاس صرف سونا ہو، اس کے علاوہ کوئی مالِ زکات (نقدی، چاندی، مالِ تجارت) نہ ہو، اس کے لیے زکات کا نصاب سونے کے اعتبار سے ہوگا،یعنی اگر ساڑھے سات تولہ یا اس سے زیادہ سونا ہوتو سال گزرنے پر مجموعی سونے کا ڈھائی فیصد زکات میں دے گا۔ البتہ سونے کے بجائے وہ نقد رقم کی صورت میں بھی زکات دے سکتاہے، اس کی ایک صورت یہ ہے کہ جس دن زکات نکالنی ہو، اس دن مجموعی سونے کی قیمتِ فروخت معلوم کرکے اسے چالیس سے تقسیم کردیں، حاصل جواب زکات کی واجب مقدار ہوگی۔
اور جس کے پاس صرف چاندی ہو اور کوئی مال نہ ہو اس کے لیے زکات نصاب چاندی کے اعتبار سے ہوگا، یعنی اگر ساڑھے باون تولہ یا اس سے زیادہ چاندی ہوگی تو سال پورا ہونے پر وہ مجموعی چاندی کا ڈھائی فیصد زکات دے گا۔ تاہم چاندی کے بجائے اس مقدار کی چاندی کی قیمت بھی زکات میں دے سکتا ہے۔
ا ور جس کے پاس سونا /چاندی دونوں ہوں یا سونا /چاندی کے ساتھ نقدی یا مالِ تجارت بھی ہو یا صرف نقدی ہو یا صرف سامانِ تجارت ہو یا اس کے پاس مذکورہ چاروں اموال (سونا، چاندی، نقدی اور مالِ تجارت) موجود ہوں تو ایسے شخص کے لیے زکات کا نصاب ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت ہے، لہٰذا اگر ان (پانچوں) صورتوں میں ان چیزوں کی مجموعی مالیت چاندی کے نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی ) کی قیمت کے برابر بنتی ہو ؛تو وہ بھی موجودہ زمانے میں فقراء کا فائدہ دیکھتے ہوئے چاندی کے حساب سے زکات نکالےگا۔
نیز ضرورت اور استعمال کے سامان کو زکات کے نصاب میں شمار نہیں کیا جائے گا۔
زکاۃ کی مقدار احادیث میں جو بیان کی گئی ہے وہ چالیسواں حصہ (اڑھائی فی صد) ہے، لہٰذا صاحبِ نصاب پر اپنے اموال میں سے چالیسواں حصہ زکاۃ میں نکالنا واجب ہے ،چنانچہ ترمذی وابوداؤد شریف کی روایت میں ہے
عن علي رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « قد عفوت عن الخيل والرقيق فهاتوا صدقة الرقة من كل أربعين درهماً درهم، وليس فى تسعين ومائة شىء فإذا بلغت مائتين ففيها خمسة دراهم".
ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے گھوڑوں اور لونڈی و غلام کی زکاۃ معاف کر دی (یعنی یہ تجارت کے لیے نہ ہوں تو ان میں زکاۃ نہیں ) پس چاندی کی زکاۃ دو ہر چالیس درہم پر ایک درہم (لیکن خیال رہے ) ایک سو نوے درہم میں زکاۃ نہیں ہے، جب دو سو درہم پورے ہوں گے تب زکاۃ واجب ہوگی اور زکاۃ میں پانچ درہم دینے ہوں گے
۔(سنن الترمذی،باب زکاۃ الذھب والفضۃ،3/16بیروت-سنن ابی داؤد،باب فی زکوۃ السائمۃ2/11)
یہ نصاب سونا چاندی، نقد رقم اور اموال تجارت کے بارے میں ہے ،البتہ جانوروں کا نصاب مختلف ہے جس کی تفصیل احادیث وفقہ کی کتابوں میں موجود ہے۔
فتاوی شامی میں ہے
ولیس في دور السکنی و ثیاب البدن و أثاث المنازل و دوابّ الرکوب و عبید الخدمة و سلاح الاستعمال زکاة؛ لأنها مشغولة بحاجته الأصلیة ولیست بنامیة".
۔(ردالمحتار علی الدرالمختار،ج:2، ص:262۔کتاب الزکوۃ،ط:ایچ ایم سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے
وَفِي كُلِّ عِشْرِينَ مِثْقَالِ ذَهَبٍ نِصْفُ مِثْقَالٍ مَضْرُوبًا كَانَ أَوْ لَمْ يَكُنْ مَصُوغًا أَوْ غَيْرَ مَصُوغٍ حُلِيًّا كَانَ لِلرِّجَالِ أَوْ لِلنِّسَاءِ تِبْرًا كَانَ أَوْ سَبِيكَةً كَذَا فِي الْخُلَاصَةِ. وَيُعْتَبَرُ فِيهِمَا أَنْ يَكُونَ الْمُؤَدَّى قَدْرَ الْوَاجِبِ وَزْنًا، وَلَا يُعْتَبَرُ فِيهِ الْقِيمَةُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ - رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى -(الفتاویٰ الهندیة، [الباب الثالث في زكاة الذهب والفضة والعروض وفيه فصلان][الفصل الأول في زكاة الذهب والفضة] 179,178/1)
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب
كتبه/ محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال

0 تبصرے