Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

مشروط حیلہ شرعی اور متعہ کرنا کیسا ہے؟۔السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرح متین اس مسئلے میں کہ مشروط حیلہ شرعی کرنا کیسا ہے؟ اور متعہ کرنا کیسا ہے؟

 (207)

مشروط حیلہ شرعی اور متعہ کرنا کیسا ہے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرح متین اس مسئلے میں کہ مشروط حیلہ شرعی کرنا کیسا ہے؟ اور متعہ کرنا کیسا ہے؟

 برائے مہربانی اس کا مفصل اور مدلل جواب عنایت فرمائیں۔ نوازش ہوگی السلام

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سائل محمد طلحہ محمد علی خان ممبئی مہاراشٹر انڈیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نحمده ونصلي علي رسوله الكريم 

وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته 

الجواب بعونه تعالي عز وجل 

۔1) مشروط حیلہ شرعی کرنا شرعا جائز نہیں ہے۔ کہ اس میں مستحق کے لئے ملکیت نہیں پائی گئی۔ 

حیلہ شرعی کا طریقہ یہ ہے کسی شرعی فقیر کو زکوۃ کا مالک بنا دیں پھر وہ (آپ کے مشورے پر یا خود) اپنی طرف سے کسی نیک کام میں خرچ کرنے کے لئے دے دے ۔ تو ان شاء اللہ عز و جل دونوں کو ثواب ہوگا اور یہی شرعی حیلہ شرعی ہے۔

فقہائے کرام رحمہم اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں، زکوۃ کی رقم مردے کی تجہیز و تکفین یا مسجد کی تعمیر میں صرف نہیں کر سکتے کہ تملیک فقیر ( یعنی فقیر کو مالک کرنا) نہ پائی گئی ۔ اگر ان اُمور میں خرچ کرنا چاہیں تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ فقیر کو ( زکوۃ کی رقم کا مالک کر دیں اور وہ ( تعمیر مسجد وغیرہ میں) صرف کرے، اس طرح ثواب دونوں کو ہو گا

(رد المحتار، کتاب الزکوة ، ج ۳، ص ۳۴۳)

۔2) متعہ شرعا جائز نہیں ہے۔

قرآن مجید نے محرکات کا ذکر فرما کر یوں فرمایا ہے کہ ان کے علاوہ اپنے اصول کے ذریعے حلال عورتیں تلاش کرو، اس حال میں کہ پانی بہانے والے نہ ہوں یعنی محض شہوت رانی مقصود نہ ہو اور ساتھ ہی ساتھ محصنین کی بھی قید لگائی ہے، یعنی یہ کہ عفت کا دھیان رکھنے والے ہوں ........ متعہ چونکہ مخصوص وقت کے لئے کیا جاتا ہے، اس لئے اس میں نہ حصول اولاد مقصود ہوتا ہے، نہ گھر بار بسانا اور نہ عفت و عصمت اور اسی لیےجس عورت سے متعہ کیا جائے اس کو فریق مخالف زوجہ وارثہ بھی قرار نہیں دیتا اور اس کو ازواج معروفہ کی گنتی میں بھی شمار نہیں کرتا ........ اور چونکہ مقصد محض قضاء شہوت ہے، اس لئے مرد و عورت عارضی طور پر نئے نئے جوڑے تلاش کرتے رہتے ہیں جب یہ صورت ہے تو متعہ عفت و عصمت کا ضامن نہیں بلکہ دشمن ہے۔

واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

كتبه/ محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے