Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

کیا مدرسہ کی زمین دوسری زمین سے بدل سکتے ہیں؟

 (238)

کیا مدرسہ کی زمین دوسری زمین سے بدل سکتے ہیں؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 السلام عليكم ورحمة الله وبركاته 

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ 

ایک شخص نے مدرسہ کے لیے زمین دی وہاں بنیاد رکھی گئی برآمد ہ بھی بنایا گیا 15/16 سال پرانی بات ہے کچھ لوگ کہتے ہیں شاید کچھ دن بچے پڑھنے بھی بیٹھتے رہے تاہم کچھ دن بعد مدرسہ سے متعلق کوئی سرگرمی وہاں نہ رہی جگہ کو لوگوں نے ذاتی استعمال میں لانا شروع کر دیا دو سال تک ایک شخص فصل کٹائی والے مزدور بٹھا دیتا تھا تب اہل محلہ نے جامع مسجد کے ساتھ ملحق ایک گھر والے کو پیشکش کی آپ یہ گھر والی جگہ دے دیں اور مدرسہ والی جگہ لے لیں اس نے ایسا کر دیا اور مدرسہ والی جگہ پہ گھر بنادیا تب مدرسہ کے لیے جگہ وقف کرنے والا شخص خود زندہ تھا اس کی رضا مندی بھی شامل تھی تبادلہ میں جو جگہ مدرسہ والی جگہ کے بدلے میں ملی تھی وہ مدرسہ کے علاوہ کسی اور استعمال میں لائی جا سکتی ہے اگر جائز ہے تو کس کس استعمال میں لائی جا سکتی ہے اگر جائز نہیں وہاں اگر کوئی قباحت نہ تو مدرسہ بنانا فرض یا واجب ہوگا ؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سائل: محمد جامی فیصل آباد پاکستان

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نحمده ونصلي علي رسوله الكريم 

وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته 

الجواب بعونه تعالي عز وجل 

صورت مسئولہ میں جب واقفین کی جانب سے وہ جگہ مدرسہ کے لیے وقف کی گئی ہے تو اس کو مدرسہ ہی کے لیے استعمال کرنا لازم ہے، 

چاہے واقفین موجود ہوں یا انتقال کرگئے ہوں، واقف نے جب ایک جہت متعین کرکے اپنی چیز وقف کردی تو اب وہ چیز اس کی ملکیت سے نکل جاتی ہے بعد میں خود واقف بھی اگر نیت تبدیل کرنا چاہے تو اس کا اعتبار نہیں۔

واضح رہے کہ وقف نام ہے کسی چیز کو اپنی ملک سے خارج کر کے خالص اللہ عزوجل کی ملک کر دینا, اس طرح کہ اس کا نفع بندگانِ خدا میں سے جس کو چاہے ملتا رہے. یہ وقف کی تعریف ہے۔

وقف کا حکم یہ ہے کہ شی موقوف(وقف کی گئی چیز) واقف کی ملک سے خارج ہو جاتی ہے مگر موقوف علیہ (جس پر وقف کیا گیااس) کی ملک میں داخل نہیں ہوتی, بلکہ خالص اللہ تعالٰی کی ملک قرار پاتی ہے. (ایضا)  نہ اس کو بیچ سکتا ہے, نہ عاریت پر دے سکتا ہے, اور نہ اس کو رہن رکھ سکتا ہے. (بہار شریعت, ج:۲, ح ١۰, وقف کا بیان) 

مجتہد فی المسائل اعلی حضرت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں 

جو چیز جس غرض کے لیے وقف کی گئی دوسری غرض کی طرف پھیرنا ناجائز ہے, اگر چہ وہ غرض بھی وقف ہی کے فائدہ کی ہو.(فتاوی رضویہ, ح:٦ ص:۴٥٥)

فتح القدیر میں ہے  

الواجب إبقاء الوقف على ما كان عليه دون زيادة أخرى

یعنی وقف کو اسی طرح باقی رکھنا واجب ہے جس پر وقف ہوا بغیر کسی زیادتی کے۔

۔(فتح القدیر, ح:٥, ص:۴۴۰,کتاب الوقف, مکتبہ نوریہ رضویہ)

کیوں کہ شرائط واقف کا اتباع واجب ہے،

اشباہ والنظائر میں ہے،

شرط الواقف کنص الشارع فی وجوب العمل بہ۔

واجب العمل ہونے میں واقف کی شرط شارع کی نص کی طرح ہے۔(الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الوقف ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۳۰۵)

 والله و رسوله أعلم بالصواب 

كتبه/محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے