(256)
اگر والدین بیٹی کو سونا چاندی وغیرہ دے تو کیا اس وجہ سے بیٹی پر قربانی واجب ہوگی؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب کی بارگاہ میں میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی گھر والا اپنی بیٹی کو ایک تولہ سونا اس کا حوالہ کر دے اور اس سے یہ کہے کہ تمہاری شادی میں یہ کام آئیے گی مگر اگر وہ ان کا بیٹی اس سونا کو بیچے تو گھر والے منع بھی کرتے ہیں تو کیا اگر اس کے پاس کیش وغیرہ رقم ہو تو کیا اس پر قربانی واجب ہوگی یا نہیں ہوگی یا آپ اس کو یوں سمجھیں کہ گھر والے اس کو پہننے کے لیے دیتے مگر حوالہ بھی نہیں کرتے بیچنے سے منع کرتے جبکہ مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی زکوٰۃ کا رقم دیں تو اس کا اس تصرف ہوتا ہے تو کس پر قربانی واجب ہوگی گھر والے پر یا اس کی بیٹی پر ضرور آگاہ کریں ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سائلہ انشاء نور رضویہ ساکن رامپور یوپی انڈیا فقہی مسائل براے خواتین شرعی سوال و جواب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نحمده ونصلي علي رسوله الكريم
وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته
الجواب بعونه تعالي عز وجل
مسئلہ مسئولہ میں بیٹی سونے چاندی کا مالک نہیں بس یوز کرنے کے لیے دئے ہیں۔
قربانی واجب ہونے کا نصاب وہی ہے جو صدقۂ فطر کے واجب ہونے کا نصاب ہے یعنی جس عاقل بالغ مقیم مسلمان مرد یا عورت کی ملکیت میں قربانی کے ایام میں قرض کی رقم منہا کرنے بعد ساڑھے سات تولہ سونا، یا ساڑھے باون تولہ چاندی، یا اس کی قیمت کے برابر رقم ہو یا تجارت کا سامان، یا ضرورت و استعمال سےزائد اتنا سامان موجود ہو جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو، یا ان میں سے کوئی ایک چیز یا ان پانچ چیزوں میں سے بعض کا مجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہوتو ایسے مرد وعورت پر قربانی واجب ہے۔ اگرچہ یہ سب مال باپ بیٹی کو دے کر مالک بنا دیے ہوں۔ پھر بیٹی پر قربانی واجب ورنہ نہیں۔ مذکورہ تفصیل یاد رکھیں۔
قربانی واجب ہونے کے لیے نصاب کے مال رقم یا ضرورت سے زائد سامان پر سال گزرنا شرط نہیں ہے، اور تجارتی ہونا بھی شرط نہیں ہے، ذی الحجہ کی بارہویں تاریخ کے سورج غروب ہونے سے پہلے اگر نصاب کا مالک ہوجائے تو ایسے شخص پر قربانی واجب ہے۔۔
واضح رہے کہ شادی کی غرض سے روپے، سونا،چاندی جمع کیے جائیں تو اس میں بھی زکاۃ واجب ہوگی البتہ اگر والدین اولاد کو اس مال کا مالک بنادیں اورواقعی ان کو دے دیں،پھر خود ان میں مالکانہ تصرف نہ کریں تو والدین پر اس مال کی زکاۃ ادا کرنا لازم نہیں ہوگا، پھر اگراولاد نابالغ ہو تو ان پر بھی زیورات وغیرہ کی زکاۃ واجب نہ ہوگی، اور اگر بالغ ہوں لیکن ان کے پاس مقدارِ نصاب سونایا چاندی نہ ہو، تو اس صورت میں بھی ان زیورات پر زکاۃ واجب نہ ہوگی ۔ہاں! اگر وہ بالغ بھی ہوں اور ان کی ملکیت میں جو مال ہے وہ نصاب کو بھی پہنچ جائے یعنی اس کی ملکیت میں ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مالیت کے بقدر سونا یا کیش یا مالِ تجارت ہو تو ایسی صورت میں اولاد پر زکاۃ ادا کرنا واجب ہو گا۔ اور اگر یہ نصاب ذی الحجہ کی 10 ۔11۔ 12۔ کو بائیں جائیں پھر قربانی واجب۔
والله ورسوله أعلم بالصواب
كتبه محمد مجیب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونڈیشن ضلع سرہا نیپال

0 تبصرے