Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

بینک میں فکس روپے جمع کرکے منافع لینا کیسا ہے؟

 (283)

بینک میں فکس روپے جمع کرکے منافع لینا کیسا ہے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

السلام عليكم ورحمۃاللہ تعالیٰ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان شرع متین مسلئےذیل میں کہ

۔1)  زید جامع مسجد میں امام خطیب ہے جمعہ کے خطاب میں زید نے شراب اور جوئے کی حرمت پر تقریر کی تقریر کے دوران بینکنگ کا مسئلہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ بینک میں فکس روپے جمع کرتے ہیں اور اس سے ملنے والی رقم کو خوب مزے سے کھاتے ہیں یہ ناجائز ہے نمازیوں میں سے کسی نے اعتراض کیا کہ امام صاحب نے جائز کو ناجائز کہا ہے بات بڑھی تو امام صاحب سے پوچھا گیا تو امام صاحب نے کہا کہ میں نے کھانے کو ناجائز کہا ہے لے سکتے ہیں لیکر دوسرے کو دیدینا چاہیے

اگر آپ کے پاس اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے تو کھا سکتے ہیں نہیں تو جائز نہیں ہے

دریافت طلب امر یہ ہے کہ امام صاحب نے بینک کے تعلق سے جو مسئلہ بتایا ہے وہ ازروئے شرع درست ہے کہ نہیں

۔2) ،اگر درست نہیں ہے تو امام صاحب کے اوپر کوئی حکم شرع عائد ہوگا

۔3 ) امام صاحب کی اقتدا میں نماز پڑھنا کیسا ہے اور پڑھی گئی نماز کے بارے میں کیا حکم ہے

شریعت مطہرہ کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

المستفتی مصلیان جامع مسجد بالا گھاٹ ایم پی انڈیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نحمده ونصلي علي رسوله الكريم 

وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته 


الجواب بعونه تعالي عز وجل 

۔1) ہند و نیپال غیر مسلم بینک میں روپیہ فکس کرکے اس پر منافع لینا جائز ہے۔ کافر حربی اور مسلم کے درمیان کوئی سود نہیں۔ وہ پیسہ خود بھی بلا قید و بند کھا سکتے ہیں اور دوسرے کو بھی دے سکتے ہیں اسی طرح مساجد و مدارس میں بھی لگا سکتے ہیں۔ 

امام صاحب نے جو خطاب جمعہ میں ناجائز کہا ہہ غلط ہے امام پر ضروری ہے کہ جمعہ ہی میں خطاب میں اس مسئلہ کی صحیح وضاحت کردیں۔ اور اپنے مذکورہ قول سے رجوع کر لیں ۔ 

۔2) امام صاحب خطاب جمعہ میں اپنے قول سے رجوع کرکے صحیح مسئلہ بیان کر دے یہ کافی یے۔ اور ہمیشہ کتب معتبرہ کتب سے مطالعہ کرکے خطاب کریں۔ 

۔3) مذکورہ امام کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے جبکہ دیگر شرائط امامت پائی جاتی ہو۔ 

اور پڑھی گئی نماز جائز یے۔ 

فتاوی شارح بخاری میں ہے 

موجودہ حکومت اور غیر مسلموں کے بینکوں میں روپے جمع کرنے پر جو زائد رقم ملتی ہے وہ سود نہیں۔ 

حدیث میں ہے

لا ربا بين أہل الحرب، أظنہ قال : وأہل الإسلام ۔

 اس لیے مذکورہ بینکوں میں روپے جمع کرنے پر جو زائد رقم ملتی ہے اس کا لینا جائز و حلال۔ (فتاوی جامعہ اشرفیہ، جلد:۵(فتاوی شارح بخاری)

واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

كتبه/ محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے