(2)
کیا سورج گرہن یاچاندگرہن کےاثرات حاملہ عورتوں پرمرتب ہوتے ہیں؟
ا─════──════──════─
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل میں کہ سورج گرہن یا چاند گرہن میں حاملہ عورتوں کو گھر کا کوئی کام نہیں کرنے دیا جاتا یہاں تک کہ بعض جگہ تو نماز تک نہیں پڑھنے دیا جاتا کہتے ہیں کہ ایسا کرنے سے پیدا ہونے والے بچے کے بدن کے اعضاء میں فرق آجاتا ہے جیسے سبزی وغیرہ کاٹنے سے بچے کے اعضاء کٹے ہوئے یا کسی کام کو کرتے ہوئے جھکنے وغیرہ سے اعضاء ٹیڑھے میڑھے ہوئے پیدائش ہوتی ہے شریعت میں اسکی کیا اصل ہے ؟
المستفتی : محمد سلطان رضا کالا ڈھونگی ضلع نینی تال اتراکھنڈ
اــــــــــــــــ♦⛔♦ـــــــــــــــــ
*وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*📝الجــــــــــــــــــــــــــوابــــــــــــــــــــ بعـــــون المــلــــك الــــــوهــــــــاب:*
سورج اور چاند گرہن کو کسی بیماری یا نقصان اور خطرات کا باعث قرار دینا شرعی نقطۂ نظر سے درست نہیں ہے
ہوسکتا ہے طبی لحاظ سے اسکے بعض اثرات انسانی جسم اور صحت پر مرتب ہوتے ہوں لیکن شریعت مطہرہ میں گرہن کے ساتھ ان باتوں کا تصور نہیں دیا گیا اسی طرح گرہن کے بارے میں یہ سمجھنا کہ شرعا اسکے اثرات حاملہ عورتوں پر مرتب ہوتے ہیں یہ بھی محض توہم پرستی اور باطل نظریات کا حصہ ہے سورج اور چاند گرہن شرعی نقطۂ نظر سے انسان کے معمولات زندگی میں قطعا حائل نہیں ہے البتہ اس وقت توبہ و استغفار اور ذکر و اذکار کا حکم ہے -
*📕بحوالہ___↓↓↓*
*📕انوار الفتاویٰ ج:1/ص:185/ عقائد و معمولات / فرید بک سٹال اردو بازار لاہور*
اور سوال میں یہ جو مذکور ہے کہ سورج یا چاند گرہن میں حاملہ عورتوں کو ( معاذ اللہ ) نماز نہیں پڑھنے دیا جاتا انتہائی درجہ کی حماقت و جہالت اور سفاہت ہے بلکہ شریعت طاہرہ کا حکم تو یہ ہے کہ اس وقت میں توبہ و استغفار اور ذکر و اذکار کیا جائے جو لوگ نماز پڑھنے سے روکیں یا رکیں وہ سب گنہگار لائق عذاب قہر قہار اور مستحق عذاب نار ہونگے -
*اور شیخ الحدیث حضرت علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی مد ظلہ النورانی تحریر فرماتے ہیں کہ___↓↓↓*
" 8/ ہجری رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے فرزند حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے شکم سے پیدا ہوئے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ان سے بے پناہ محبت تھی تقریباً ڈیڑھ سال کی عمر میں انکی وفات ہوگئی
اتفاق سے جس دن انکی وفات ہوئی سورج گرہن ہوا چونکہ عربوں کا عقیدہ تھا کہ کسی عظیم الشان انسان کی موت پر سورج گرہن لگتا ہے اس لئے لوگوں نے یہ خیال کرلیا کہ یہ سورج گرہن حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کا نتیجہ ہے جاہلیت کے اس عقیدے کو دور فرمانے کے لئے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک خطبہ دیا جس میں آپ نے ارشاد فرمایا کہ ___↓
"چاند اور سورج میں کسی کی موت و حیات کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا بلکہ اللہ تعالیٰ اسکے ذریعے اپنے بندوں کو خوف دلاتا ہے " اسکے بعد آپ نے نماز کسوف جماعت کے ساتھ پڑھی " اھ
*📕سیرت مصطفی ص:324/325/ کتب خانہ امجدیہ)*
*واللـــــــــہ تعالــی اعلـــم بالصـــــــــــــواب*
اــــــــــــــــ♦⛔♦ـــــــــــــــــ
*✍🏻کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ*
*حضرت علامہ ومولانا مفتی محمد اسرار احمد نوری بریلوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی خادم التدریس والافتاء مدرسہ عربیہ اہل سنت فیض العلوم کالا ڈھونگی ضلع نینی تال اتراکھنڈ*
*بتاریخ30جنوری2022بروز اتوار*
اــــــــــــــــ♦⛔♦ـــــــــــــــــ
*✅صح الجواب*
*شہزادۂ حضور فقیہ ملت حضرت مفتی محمد ابرار احمد امجدی برکاتی صاحب قبلہ دام ظلہ العالی مرکز تربیت افتاء اوجھا گنج ضلع بستی*
*✅الجواب صحیح والمجیب مثاب مصنف "فتاوی اکرمی" حضرت مفتی محمد شہروز عالم رضوی اکرمی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی*
*✅الجواب صحیح والمجیب نجیح*
*حضرت علامہ مفتی شان محمد القادری المصباحی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی*
*✅الجواب صحیح و صواب*
*حضرت مفتی محمد رضا صاحب قبلہ دام ظلہ العالی دارالعلوم رضویہ بڑا بریار پو*❣کیا سورج گرہن یا چاند گرہن کے اثرات حاملہ عورتوں پر مرتب ہوتے ہیں؟❣*
ا─════──════──════─
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل میں کہ سورج گرہن یا چاند گرہن میں حاملہ عورتوں کو گھر کا کوئی کام نہیں کرنے دیا جاتا یہاں تک کہ بعض جگہ تو نماز تک نہیں پڑھنے دیا جاتا کہتے ہیں کہ ایسا کرنے سے پیدا ہونے والے بچے کے بدن کے اعضاء میں فرق آجاتا ہے جیسے سبزی وغیرہ کاٹنے سے بچے کے اعضاء کٹے ہوئے یا کسی کام کو کرتے ہوئے جھکنے وغیرہ سے اعضاء ٹیڑھے میڑھے ہوئے پیدائش ہوتی ہے شریعت میں اسکی کیا اصل ہے ؟
المستفتی : محمد سلطان رضا کالا ڈھونگی ضلع نینی تال اتراکھنڈ
اــــــــــــــــ♦⛔♦ـــــــــــــــــ
*وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*📝الجــــــــــــــــــــــــــوابــــــــــــــــــــ بعـــــون المــلــــك الــــــوهــــــــاب:*
سورج اور چاند گرہن کو کسی بیماری یا نقصان اور خطرات کا باعث قرار دینا شرعی نقطۂ نظر سے درست نہیں ہے
ہوسکتا ہے طبی لحاظ سے اسکے بعض اثرات انسانی جسم اور صحت پر مرتب ہوتے ہوں لیکن شریعت مطہرہ میں گرہن کے ساتھ ان باتوں کا تصور نہیں دیا گیا اسی طرح گرہن کے بارے میں یہ سمجھنا کہ شرعا اسکے اثرات حاملہ عورتوں پر مرتب ہوتے ہیں یہ بھی محض توہم پرستی اور باطل نظریات کا حصہ ہے سورج اور چاند گرہن شرعی نقطۂ نظر سے انسان کے معمولات زندگی میں قطعا حائل نہیں ہے البتہ اس وقت توبہ و استغفار اور ذکر و اذکار کا حکم ہے -
*📕بحوالہ___↓↓↓*
*📕انوار الفتاویٰ ج:1/ص:185/ عقائد و معمولات / فرید بک سٹال اردو بازار لاہور*
اور سوال میں یہ جو مذکور ہے کہ سورج یا چاند گرہن میں حاملہ عورتوں کو ( معاذ اللہ ) نماز نہیں پڑھنے دیا جاتا انتہائی درجہ کی حماقت و جہالت اور سفاہت ہے بلکہ شریعت طاہرہ کا حکم تو یہ ہے کہ اس وقت میں توبہ و استغفار اور ذکر و اذکار کیا جائے جو لوگ نماز پڑھنے سے روکیں یا رکیں وہ سب گنہگار لائق عذاب قہر قہار اور مستحق عذاب نار ہونگے -
*اور شیخ الحدیث حضرت علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی مد ظلہ النورانی تحریر فرماتے ہیں کہ___↓↓↓*
" 8/ ہجری رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے فرزند حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے شکم سے پیدا ہوئے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ان سے بے پناہ محبت تھی تقریباً ڈیڑھ سال کی عمر میں انکی وفات ہوگئی
اتفاق سے جس دن انکی وفات ہوئی سورج گرہن ہوا چونکہ عربوں کا عقیدہ تھا کہ کسی عظیم الشان انسان کی موت پر سورج گرہن لگتا ہے اس لئے لوگوں نے یہ خیال کرلیا کہ یہ سورج گرہن حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کا نتیجہ ہے جاہلیت کے اس عقیدے کو دور فرمانے کے لئے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک خطبہ دیا جس میں آپ نے ارشاد فرمایا کہ ___↓
"چاند اور سورج میں کسی کی موت و حیات کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا بلکہ اللہ تعالیٰ اسکے ذریعے اپنے بندوں کو خوف دلاتا ہے " اسکے بعد آپ نے نماز کسوف جماعت کے ساتھ پڑھی " اھ
*📕سیرت مصطفی ص:324/325/ کتب خانہ امجدیہ)*
*واللـــــــــہ تعالــی اعلـــم بالصـــــــــــــواب*
اــــــــــــــــ♦⛔♦ـــــــــــــــــ
*✍🏻کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ*
*حضرت علامہ ومولانا مفتی محمد اسرار احمد نوری بریلوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی خادم التدریس والافتاء مدرسہ عربیہ اہل سنت فیض العلوم کالا ڈھونگی ضلع نینی تال اتراکھنڈ*
*بتاریخ30جنوری2022بروز اتوار*
اــــــــــــــــ♦⛔♦ـــــــــــــــــ
*✅صح الجواب*
*شہزادۂ حضور فقیہ ملت حضرت مفتی محمد ابرار احمد امجدی برکاتی صاحب قبلہ دام ظلہ العالی مرکز تربیت افتاء اوجھا گنج ضلع بستی*
*✅الجواب صحیح والمجیب مثاب مصنف "فتاوی اکرمی" حضرت مفتی محمد شہروز عالم رضوی اکرمی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی*
*✅الجواب صحیح والمجیب نجیح*
*حضرت علامہ مفتی شان محمد القادری المصباحی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی*
*✅الجواب صحیح و صواب*
*حضرت مفتی محمد رضا صاحب قبلہ دام ظلہ العالی دارالعلوم رضویہ بڑا بریار پور موتیہاری*
ــــــــــــــــ♦⛔♦ــــر موتیہاری*
ــــــــــــــــ♦⛔♦ــــ
(1)
*🌹مسلمان کو کافر مٹی دے سکتا ہے یا نہیں click here

0 تبصرے