Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

ٹرین میں کس طرف رخ کر کے نماز پڑھنا چاہئے؟

 (60)



ٹرین میں کس طرف رخ کر کے نماز پڑھنا چاہئے؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ چلتی ہوئی ٹرین میں نماز پڑھی لیکن جس سمت کعبہ ہے اس سمت منھ کر کے سجدہ نہیں ہو پارہا تھا اور کعبہ کے علاوہ کی سمت سجدہ کر رہے تھے۔ تو سجدہ ہو پارہا تھا تو کعبہ کی طرف منہ نہ کر کے نماز پڑھ لی تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں نماز دوہرائی جائے گی یا نماز ہو گئی ؟

(🎤المستفتي : محمد عرفان مرکزی🎤)


وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

بسم الله الرحمن الرحيم 

الجواب بعون الملک الوہاب

چلتی ریل گاڑی پر فرض و واجب و سنت فجر نہیں ہو سکتی اور اس کو جہاز اور کشتی کے حکم میں تصور کرنا غلطی ہے کہ کشتی اگر ٹھہرائی بھی جائے جب بھی زمین پر نہ ٹھہرے گی اور ریل گاڑی ایسی نہیں اور کشتی پر بھی اسی وقت نماز جائز ہے جب وہ پیچ دریا میں ہو کنارہ پر ہو اور خشکی پر آسکتا ہو تو اس پر بھی جائز نہیں ہے لہذا جب اسٹیشن پر گاڑی ٹھہرے اُس وقت یہ نمازیں پڑھے اور اگر دیکھے کہ وقت جاتا ہے تو جس طرح بھی ممکن ہو پڑھ لے پھر جب موقع ملے اعادہ کرے کہ جہاں من جہتہ العباد کوئی شرط یا رکن مفقود ہو اس کا یہی حکم ہے۔

جب رکی ہے تو اتر کر پڑھے اور یہ گمان ہو کہ گاڑی چھوٹ جائیگی اور ٹرین پر ہی وقت نمازگزر جائے گا تو جس طرح ممکن ہو پڑھے لے پھر موقع ملتے ہی اس نماز کا اعادہ کرے، اگر ٹرین پرپڑھنےمیں کوئی دشواری نہیں ہو رہی ہے تو اتر نا کوئی ضروری نہیں ہے ۔ 

۔(📗بہار شریعت جلد اول کمافی فتاوی بحر العلوم جلد اول صفحہ 468 کمافی فتاوی فقیہ ملت جلد اول صفحہ 227)

ہاں اگر فرض و واجب و سنت فجر کے علاوہ نماز پڑھنی ہو تو جس طرف ٹرین کا رخ ہے اسی طرف منھ کر کے نماز پڑھی کہ مسافر کے حق میں وہی سمت قبلہ ہے اگر چہ قبلہ سمت نہ ہو 

۔(📗عامہ کتب فقہ )

۔(📗ماخوذازفتاویٰ مسائل شرعیہ جلد دوم صفحہ ٣٠٩)

والله تعالى اعلم بالصواب


۔📝 محمد افروز احمد مجاہدی

   اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں 

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے