(86)
۔(ایک سے زیادہ انگوٹھی پھنے والے مرد کی نماز کا حکم)
السلام علیکم ورحمۃ اللہ تعالی وبرکاتہ
سوال کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین کہ۔۔ مرد کے لئے چاندی کی صرف ایک انگوٹھی جو وزن میں چار ماشہ ہو اور ایک نگ کی ہو جائز ہے اس کے علاوہ دیگر دھاتوں کے زیورات مرد کے لئے نا جائز ہے اور عورت کو سونے چاندی کے علاوہ دیگر دھاتوں کے زیورات نا جائز ہے اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اگر کوئی مرد چاندی کی ایک سے زائد انگوٹھی یا زیور پہن کر نماز پڑھے یا کوئی عورت سونے چاندی کے علاوہ دیگر دھات کے زیورات پہن کر نماز پڑھے تو اس نماز کا کیا حکم ہے نماز ہو جائے گی یا اس نماز کا اعادہ واجب ہوگا تشفی بخش جواب عنایت فرمائیں کرم ہوگا۔
سائل محمد امجد رضا}۔}
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ تعالی وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوہاب
مردوں کے لئے سونے کی انگوٹھی پہننا حرام ہے
( فتاوی عالمگیری جلد ۵ صفحه ۲۹۵)
مردوں کے لئے چاندی کی ساڑے چار ماشہ ( گرام) سے کم کی صرف ایک انگوٹھی ایک نگ والی پہننا جائز ہے چندانگوٹھی یاچند نگ والی انگوٹھی مردوں کو پہنا جائز نہیں عورتوں کو جائز ہے
( فتاوی رضویہ جلد 9 صفحہ ۱۴)
اعلی حضرت رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ شرعا چاندی کی ایک انگوٹھی ایک نگ کی کہ وزن میں ساڑھے چار ماشہ سے کم ہو پہننا جائز ہے
( فتاوی رضویہ مترجم جلد ۲۲ صفحہ ۱۴)
اس کے علاوہ پہننے کے سلسلے میں فرماتے ہیں کہ، ایک آدھ بار پہنا گناہ صغیرہ اور اگر پہنی اور اتار ڈالی تو اس کے پیچھے نماز میں حرج نہیں اور اگر نماز میں پہنے ہو تو اسے امام بنانا ممنوع ، اور اس کے پیچھے نماز مکروہ ، یوں ہی جو پہنا کرتا ہے اس کا عادی ہے فاسق معلن ہے اور اس کا امام بنانا گناہ اگراس وقت نماز میں نہ بھی پہنے ہو
۔(فتاوی رضویہ مترجم جلد 4 صفحہ۲۰)۔
مردوں کو سونے کی انگوٹھی پہن کر نماز پڑھنا اور پڑھانا مکروہ تحریمی ہے
( فتاوی رضویہ جلد 9 صفحہ ۱۴)
تکبر کے طور پر انگوٹھی پہنا جائز نہیں
( فتاوی رضویہ مترجم جلد ۲ صفحہ۱۴)
سونے چاندی کے علاوہ دوسری دھاتوں مثلاً لوہا پیتل، تانبا، رولڈ گولڈ ، رانگا وغیرہ کے زیورات یا انگوٹھیاں مرد یا عورت کسی کو پہنا جائز نہیں ان دھاتوں کو پہن کرمرد یا عورت کسی نے بھی نماز پڑھی تو نماز مکروہ تحریمی ہوگی
(فتاوی رضویہ جلد ۹ صفحہ ۱۴ )
۔(فتاوی فیض الرسول جلد ۲ صفحہ ۵۶۵)
۔( جنتی زیور صفحہ ۳۱)
عورت جتنا چاہے اتنا سونا چاندی پہن سکتی ہے
(ماخوذازضیاء شریعت جلداول صفحہ ٦٢)
والله تعالى اعلم بالصواب
كتبہ محمد افروز احمد مجاہدی
اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے