(127)
اگر تراویح گھر میں پڑھیں تو وتر جماعت سےپڑھیں یا تنہا ؟
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ نماز تر اویج گھر میں رہ کر ادا کریں تو اب وتر کی نماز جماعت سے پڑھیں یا علاحدہ ادا کریں نماز اور تراویح حکومت کے اعلان مطابق کس طرح ادا کریں شرعی اعتبار سے جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی
المستفتي : محمد اعجاز
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملك الوہاب
پنج وقتی نماز جماعت کے ساتھ گھر میں یا کسی بھی پاک جگہ پر پڑھنا سنت ہے، جبکہ ابھی یعنی ۲۰۲۰ موجودہ حالات کے پیش نظر مساجد میں زیادہ لوگ جمع نہیں ہو سکتے اس لئے جہاں تک ممکن ہو گھروں پر چند اشخاص باجماعت نماز ادا کریں جتنے لوگوں کو اکٹھا ہونے کی اجازت ہے اتنے ہی لوگ اکٹھا ہو کر نماز ادا کریں اس سے زیادہ لوگ جمع نہ ہوں اس لئے کہ زیادہ لوگوں کو جمع ہونا قانون کو توڑنا ہے۔ اپنے کو اہانت کے لئے پیش کرنا، اپنی عزت کو خطرہ میں ڈالنا ہے ۔ اور عزت کی حفاظت کر ناذلت و رسوائی سے بچنا ضروری ہے اسی طرح فقیہ ملت علیہ الرحمۃ اسی قسم کے ایک جواب میں مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں جس طرح پنج وقتی نماز گھروں میں جماعت سے ادا کر سکتے اسی طرح ماہ رمضان المبارک میں تراویح اور وتر بھی با جماعت ادا کر سکتے ہیں البتہ اگر کسی نے عشاء کی فرض جماعت سے نہ پڑھی ہو تو وہ وتر بھی تنہا پڑھے جیسا کہ حضور فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمتہ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ جس نے عشاء کی نماز تنہا پڑھی وہ تراویح کی جماعت میں شامل ہو جائے تنہا نہ پڑھے ہاں وتر کی جماعت میں شامل نہ ہو در مختارمیں ہے:مصلیه(ای الفرض) وحده يصليها (ای التراويح) معه (اى مع الامام )
اور رد المحتار میں ہے: اذالم يصل الفرض معه لا يتبعه في الوتر "
فتاوى فيض الرسول جلد اول صفحہ ۳۷٦
ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلدسوم صفحہ ۱۹۰
والله اعلم بالصواب
کتبہ محمد افروز احمد مجاہدی
اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے