(131)
کیا دو حافظ دس دس رکعت تراویح پڑھا سکتے ہیں؟
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ رمضان المبارک میں تراویح کے لئے دو حافظ رکھنا ایک حافظ دس رکعت پڑھائے اور دوسرا دس رکعت پڑھائے لیکن ایک حافظ نے دس رکعت میں جو پڑھایا دوسرے حافظ نے بھی وہی اخیر کی دس رکعتوں میں پڑھایا مثلاً ایک حافظ نے شروع کی دس رکعتوں میں پارہ الم پڑھایا دوسرے حافظ نے اخیر کی دس رکعتوں میں پارہ الم ہی پڑھایا تو اس طرح تراویح میں پڑھنا کیسا ہے جبکہ کمیٹی والوں کا کہنا ہے اس طرح پڑھانے سے دو قرآن ختم ہو جاتا ہے۔ بینوا تو اجر و
المستفتی: رضوان احمد جھارکھنڈ
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملک الوہاب
یہ طریقہ مکروہ ہے اگر کچھ مقتدیوں کو گراں گزرنے کا سبب ہو تو سخت ممنوع ہے جیسا کہ سرکار اعلی حضرت عظیم البرکت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمة والرضوان تحریر فرماتے ہیں یہ طریقہ مکروہ ہے اور اگر ثابت ہو کہ بعض مقتدیوں پر گراں گزرنے کا باعث تھا (اور) ضرور ہو گا) تو سخت ممنوع ہے کہ یوں دوختم معا سنت سے زائد ہیں تو ایک امر زائد سنت کے لئے مقتدیوں پر گرانی کی گئی اور یہ نا جائز ہے {وانما علل عدم ترك ختم بكسل القوم لانه سنة فمازاد يترك لانه فتنة} قوم کی سستی کی وجہ سے ایک ختم قرآن ترک نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ سنت ہے اور جو اس سے زائد ہے وہ ترک کر دیا جائے گا کیونکہ یہ فتنہ ہے۔
فتاوی رضویہ قدیم جلد ۳ صفحہ ۴۸۰
ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلدسوم صفحہ ۲۰۱
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
كتبہ محمد افروز احمد مجاہدی
اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے