(130)
فرض جماعت سے پڑھنے والے پرکیا وترجماعت سے لازم ہے؟
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ جس شخص نے رمضان المبارک میں عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھی ہو تو کیا اس پر لازم ہے کہ وتر بھی جماعت سے پڑھے اس لئے کہ ہمارے یہاں ایک تہجد گزار شخص ہیں جو گھر پروتر کی نماز تنہا پڑھتے ہیں جبکہ عشاء کی نماز اور تروایح جماعت کے ساتھ مسجد میں ادا کرتے ہیں۔
المستفتی : نوید احسن
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملک الوہاب
تہجد گزار ہو غیر تہجد گزارکسی پر بھی یہ لازم و ضروری نہیں ہے کہ عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھا ہے تو وتر رمضان المبارک بھی جماعت سے پڑھے جیسا کہ حضور اعلی حضرت امام احمد رضا خان -فاضل بریلوی علیہ الرحمة والرضوان تحریر فرماتے ہیں کسی کو بھی ضرور نہیں بلکہ افضلیت میں -اختلاف ہے، ہمارے اصل مذہب میں افضل یہی ہے کہ تنہا گھر میں پڑھے اور ایک قول پر مسجد میں جماعت سے پڑھنا افضل ہے، اب اکثر مسلمین کا عمل اسی پر ہے کما فی الدر و حواشیہ و بیناہ فی فتاونا بہر حال ضروری کسی کے نزدیک نہیں ۔
فتاوی رضویہ قدیم جلد ۳ صفحه ۴۵۳
ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلدسوم صفحہ ۲۰۰
والله تعالى اعلم بالصواب
کتبہ محمد افروز احمد مجاہدی
اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے